سفر یورپ 1924ء — Page 309
۳۰۹ صرف رنج، غم اور محنت اور تکلیف ہی باقی رہ جاتی ہے۔بعض حالات جن کا میں نے اظہار نہیں کیا وہ دعاؤں سے تفرع سے مل بھی سکتے ہیں حتی کہ میں نے تجربہ کیا ہے بعض دفعہ ایسے حالات کے آثار ظاہر بھی ہونے شروع ہو جاتے ہیں مگر دعا، صدقات اور تضرعات سے مل جاتے ہیں۔پس کثرت سے دعائیں کرو کہ اللہ تعالیٰ ان حالات کو بدل دے اور ٹال دے ان کا علاج صرف ایک ہی ہے اور وہ دعا ہے۔پس تم دعاؤں میں لگ جاؤ کہ بقیہ حصہ سفر کا خیر وخوبی سے کٹ جائے اور نہ ادھر سے کوئی رنج و غم کی خبر جائے نہ اُدھر سے کوئی ہم وغم کی خبر آوے۔جہاں سفر کے غم و ہم زیادہ تکلیف دہ ہوتے ہیں وہاں سفر کی دعائیں بھی زیادہ قبول ہوتی ہیں۔پس تم دعاؤں سے کام لو تا اللہ تعالیٰ تم کو تکلیف نہ دے۔میں نے حضرت اقدس کے خطبہ کا یہ خلاصہ درخلاصہ اپنے لفظوں میں لکھا ہے۔حضور مضمون لکھ رہے ہیں۔آج صبح پھر حضرت میاں صاحب، شیخ صاحب عرفانی اور شیخ مصری کو دکان کا حساب وغیرہ پڑتال کرنے کو بھیجا تھا بعض حسابات میں غلطی معلوم ہوئی تھی۔نماز جمعہ کے بعد حضور نے حافظ صاحب اور عرفانی صاحب کو خو دحکم دیا کہ کانفرنس میں جا کر مضمون کو سنیں اور پوری رپورٹ لائیں۔باقی دوستوں کو بھی اجازت ہے کہ جو چاہے جائے۔میں نے خطبہ کا خلاصہ لکھنا تھا نہیں جاسکا اور بیٹھار پورٹ لکھ رہا ہوں۔حضرت مضمون لکھتے جاتے ہیں مکرمی چوہدری صاحب ساتھ ساتھ ترجمہ کرتے جاتے ہیں اور ٹائپسٹ (ڈھینگری ) ٹائپ کرتی جارہی ہے۔۲۵ صفحات تک مضمون ہو چکا ہے مگرا بھی ختم نہیں ہوا۔اس کی نقل بھی انشاء اللہ بھیجوں گا۔مضمون حضور نے وقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے خود بند کر دیا اور ۲۳ صفحات پورے ہوئے۔شام کی نماز حضور نے وقت پر پڑھائی۔اکثر دوست لیکچر ہال میں گئے ہوئے تھے وہ نماز کے بعد آئے۔نماز کے بعد حضرت نے کھانا تناول فرمایا - دوست بھی کھانے کے وقت تک پہنچ گئے۔بہائیوں نے اپنے لیکچر کے دو حصے کر کے یکے بعد دیگرے دو آدمیوں نے سنائے۔ایک لیکچرار انگریز کہیں سے بلوایا ہوا تھا جو لیکچر پڑھنے میں بڑا مشاق اور ماہر تھا۔دوسرا خودشوقی آفندی کا