سفر یورپ 1924ء — Page 292
۲۹۲ لوگ آٹھ بجے سے پہلے آنے شروع ہوئے اور جلسہ کی کارروائی کے شروع ہو جانے پر بھی آتے رہے۔مسٹر داس گپتا نے جلسہ کی غرض مفصل بیان کی اور ڈاکٹر والٹر ورش صاحب کو لوگوں سے انٹروڈیوس کرایا جو کہ پریذیڈنٹ جلسہ مقرر ہوئے تھے۔لوگوں نے ان کی اس تجویز کی تالیوں منظوری دی اور ڈاکٹر صاحب صدارت کی کرسی پر رونق افروز ہوئے۔پریذیڈنٹ نے کھڑے ہو کر ایک مختصر سی تقریر کی اور بتایا کہ ایسا ظالمانہ قتل نہ صرف احمدیت کے خلاف ہے بلکہ یہ فعل انسانیت کے بھی خلاف ہے لہذا اس پر اظہار نفرت کرنا چاہیے۔تقریر میں جوش اور زور تھا۔اس نے حضرت اقدس کو لوگوں سے انٹروڈیوس کرایا اور بہت اچھے الفاظ میں کرایا اور حضرت اقدس سے عرض کی کہ واقعہ قتل کی تفصیل لوگوں کو سنائیں۔حضرت نے وہ مضمون جس کی نقل اوپر درج کر آیا ہوں انگریزی میں خود پڑھا اور کہتے ہیں کہ پہلے دونوں مضامین سے زیادہ اچھا پڑھا گیا تھا اور بہت ہی مؤثر تھا حتی کہ بعض مرد اور عورتیں زار و قطار روتے دیکھے گئے۔مضمون نہایت ہی دلچسپی اور اطمینان سے سنا گیا جس کا پبلک پر بہت گہرا اثر بتایا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مضمون کی سادگی - اختصار اور لکھنے میں اطمینان قلب اور طرز تحریر بہت ہی پسند کیا گیا۔حضرت کا مضمون پڑھا جانے کے بعد ڈاکٹر ورش اُٹھے اور انہوں نے ایک بہت ہی زور دار تقریر کی جس میں واقعہ قتل کے متعلق اظہار نفرت اور انسانی آزادی کے راستہ میں ایک زبر دست روک بتاتے ہوئے ساتھ ہی سید نا حضرت خلیفہ اسیح کی تقریر کی بہت ہی تعریف کی اور لوگوں کو بتایا کہ ایسے امن پسند لوگ جن کا باوجود یکہ ایک آدمی نہایت بے رحمی اور دردناک طریق سے ابھی ابھی قتل کیا گیا ہے ان کے اپنے قاتلوں کے متعلق ایسے خیالات سن کر بغیر تعریف کئے رہا نہیں جاسکتا۔اس واقعہ قتل نے ان کے دلوں میں قاتلوں سے نفرت اور حقارت کے جذبات پیدا نہیں کئے اور یہ ایک بہت ہی بڑی بات ہے۔یہ چونکہ ایک جماعت کے امام ہیں اس سے ہم اندازہ اور یقین کر سکتے ہیں کہ ان کی تمام جماعت کے بھی یہی خیالات ہوں گے۔اس نے لوگوں کو بتایا کہ جس قسم کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے وہ بہت ہی قابل رشک ہیں اور پاکیزہ ، اور غصہ سے پاک ہیں۔آپ کا