سفر یورپ 1924ء — Page 291
۲۹۱ کم سے کم خدمت کر کے جو آزادی کی راہ میں وہ کر سکتے ہیں اپنے فرض سے سبکدوش ہوں گے یعنی اس فعل پر نا پسندیدگی کا اظہار کریں گے۔قومیں الگ ہوں ، حکومتیں الگ ہوں مگر ہم سب انسان ہیں ہماری انسانیت کو کوئی نہیں مار سکتا۔ہماری ضمیر کی آزادی کو کوئی نہیں چھپا سکتا۔پس کیا انسانیت اس وقت ظلم پر اپنی فوقیت کو بالا ثابت کر کے نہیں دکھائے گی ؟ حضرت اقدس اس وقت بازار تشریف لے گئے ہیں۔مضمون ختم فرما گئے ہیں۔قلم اور بیان میں خدا تعالیٰ نے قوت و طاقت کا بہت اضافہ فرما دیا ہے۔خدا تعالیٰ کے فضلوں کی بارش کے آثار نظر آتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہمیں بھی وہ سب کچھ دکھائے جو کچھ دن بعد ظاہر ہونے والا آمین۔ہے مسٹر ایون پورٹ سمتھ سے آئے ہیں۔یہ وہ صاحب ہیں جن کو دیکھ کر حضرت اقدس بہت خوش ہیں۔شام کا کھانا ساڑھے چھ بجے لگا دیا گیا مگر چونکہ حضرت جلسہ کے مضمون کو پڑھ رہے تھے اس وجہ سے دیر ہوگئی اور ے بجے ٹھیک حضور تشریف لائے۔ساڑھے سات بجے کے بعد کھانے سے فارغ ہوئے اور جلدی ہی لوگ جانے کو تیار ہو گئے۔میرے واسطے چونکہ ابھی کھانا کھانا اور سامان سمیٹنا بھی تھا میں اس جلدی میں لوگوں کا ساتھ نہ دے سکا اور اس جلسہ میں بھی شامل نہ ہو سکا۔ایک بزرگ سے عرض کیا کہ رپورٹ لا دیں۔ان کو کاغذ بھی دیئے اور پنسل بھی مگر ان کو جلسہ گاہ کے دروازہ پر ڈیوٹی پر لگا دیا گیا کہ لوگوں کو رسیو کر میں اس طرح وہ بھی نہ لکھ سکے۔نماز میں حضور نے جلسہ سے واپس آ کر ادا کیں۔جلسہ گاہ میں لوگ ۸ بجے سے بھی پہلے آنے شروع ہو گئے تھے۔جیسا کہ چوہدری فتح محمد خان صاحب نے مجھے بتایا کیونکہ وہ دروازہ پر سب سے پہلے انتظام کے لئے گئے تھے جلسہ کی کارروائی ٹھیک سوا آٹھ بجے شروع ہو کر ٹھیک سوا دس بجے ختم ہوئی۔گھڑیوں کے اختلاف کی وجہ سے کچھ کمی بیشی ہو تو وہ الگ بات ہے۔حاضری کے متعلق - دوستوں میں اختلاف ہے۔زیادہ خیال یہ ہے کہ دواڑھائی سو کی تھی مگر مصری صاحب صرف ایک سو بتاتے ہیں۔چوہدری فتح محمد خان صاحب جو کہتے ہیں کہ میرا اندازہ حاضری کے متعلق ہمیشہ کم ہی ہوا کرتا ہے اور انہوں نے لنڈن کے اکثر ایسے جلسے دیکھے بھی ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ میرے اندازہ میں دو اور اڑھائی سو کے درمیان حاضری تھی۔