سفر یورپ 1924ء — Page 290
۲۹۰ ہو۔میں جانتا ہوں کہ ظلم نہ ظلم سے مٹتے ہیں اور نہ عداوت سے۔پس میں نہ ظلم کا مشورہ دوں گا۔اور نہ عداوت کے جذبات کو اپنے دل میں جگہ دوں گا۔میں صفائی سے کہتا ہوں کہ میری اغراض اس میٹنگ میں شمولیت سے یہ ہیں۔اول : اس امر کا اظہار کہ امیر کے اس فعل کو اسلام کی طرف منسوب نہیں کرنا چاہیے۔یہ فعل اسلام کے بالکل بر خلاف ہے۔اسلام کامل مذہبی آزادی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ حق اور باطل ظاہرا مور ہیں پس کسی پر زبر دستی کرنے کی وجہ نہیں۔ہر شخص کے لئے تو اس کا اپنا دین ہے۔حضرت ابو بکر کے زمانہ میں جو لوگ مرتد ہوئے ان کو کسی نے نہیں قتل کیا۔صرف اس وقت تک ان سے جنگ کی گئی جب تک کہ انہوں نے حکومت سے بغاوت جاری رکھی۔پس کسی شخص کو حق نہیں کہ وہ اس فعل کو اسلام کی طرف منسوب کرے۔ایسے افعال ہر مذہب کے لوگوں سے ہوتے رہتے ہیں۔دوم : اس امر کا اظہار کہ ہم لوگ امیر کے اس فعل کو درست نہیں سمجھتے اور اس اظہار کی یہ غرض ہے کہ جب کسی شخص کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس کے فعل کو دنیا عام طور پر نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے تو اس کی آئندہ اصلاح ہو جاتی ہے۔پس بلا جذبات عداوت کے اظہار کے جن کو میں اپنے دل میں نہیں پاتا ، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کابل گورنمنٹ کا یہ فعل اصول اخلاق و مذہب کے خلاف تھا اور ایسے افعال کو ہم لوگ ناپسندیدہ سمجھتے ہیں۔یہ افعال ہمیں اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔نہ پہلے شہیدوں کی موت سے ہم ڈرتے ہیں اور نہ یہ واقعہ ہمارے قدم کو پیچھے ہٹا سکتا ہے۔چنانچہ اس دل دہلا دینے والے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مجھے تار کے ذریعہ سے بائیس آدمیوں کی طرف سے درخواست ملی ہے کہ وہ افغانستان کی طرف مولوی نعمت اللہ خان کا کام جاری رکھنے کے لئے فوراً جانے کو تیار رہیں اور ایک درخواست یہاں انگلستان میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بارایٹ لا ایڈیٹر انڈین کیسر نے اسی مضمون کی دی ہے۔پس جو غرض ان قتلوں سے ہے وہ ہرگز پوری نہ ہوگی۔ہم آٹھ لاکھ آدمیوں میں سے ہر ایک خواہ مرد ہو خواہ عورت خواہ بچہ اس راستہ پر چلنے کے لئے تیار ہے جس پر نعمت اللہ خان شہید نے سفر کیا ہے۔اب میں اس امید پر اس مضمون کو ختم کرتا ہوں کہ مذہبی آزادی کے دلدادہ اس موقع پر وہ