سفر یورپ 1924ء — Page 288
۲۸۸ نعمت اللہ خان کو صرف آرتھوڈا کس پارٹی کے خوش کرنے کے لئے قتل کیا ہے۔کابل کی آمدہ خبروں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گورنمنٹ کا بل نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ بھی احمدیوں سے ایسا ہی معاملہ کرے گی اور وہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے ملک کا قانون مرتد سے ایسے ہی سلوک کا مطالبہ کرتا ہے۔مگر گورنمنٹ کی اپنی چٹھیاں اس امر کی تردید کر رہی ہیں۔یہ تمام واقعات مجھے قادیان سے میرے نائب نے بذریعہ تار مختلف تاریخوں پر بھیجے ہیں اور ان کی معلومات کا ذریعہ کابل کے اخبارات ہیں جن میں سے اکثر واقعات لئے گئے ہیں۔تین خون: اے بہنو اور بھائیو! گو یہ واقعہ اپنی ذات میں بھی نہایت افسوسناک ہے مگر یہ واقعہ منفرد نہیں ہے۔یہ تیسرا خون ہے جو گورنمنٹ افغانستان نے صرف مذہبی اختلاف کی بنا پر کیا ہے۔سب سے پہلے مولوی عبدالرحمن صاحب کو امیر عبدالرحمن خان نے احمدیت کی بنا پر گلا گھونٹ کر مروا دیا۔پھر صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب کو جو خوست کے ایک بڑے رئیس تھے اور تمہیں ہزار آدمی ان کے مرید تھے اور علم میں ان کا ایسا پا یہ تھا کہ امیر حبیب اللہ خان کی تاجپوشی کے موقع پر انہوں نے ہی اس کے سر پر تاج رکھا تھا۔امیر حبیب اللہ خان نے سنگسار کروا دیا اور باوجود اس عزت کے جو اُن کو حاصل تھی ان کو پہلے چار ماہ تک قید رکھا اور زمانہ قید میں طرح طرح کے دکھ دیئے لیکن جب انہوں نے اپنے عقائد کو ترک نہ کیا تو ان پر سنگساری کا فتویٰ دیا اور حکم دیا کہ ان کے ناک میں چھید کر کے اس میں رسی ڈالی جائے اور پھر اس رسی سے گھسیٹ کر ان کو سنگسار کرنے کی جگہ تک لے جایا جائے۔مسٹر مارٹن اپنی کتاب انڈر دی ایسولیٹ (Under the absolute) میں ان کی شہادت کا واقعہ لکھتے ہوئے اس امر پر خاص طور سے زور دیتے ہیں کہ ان کے قتل کا اصل سبب احمد یہ جماعت کی وہ تعلیم ہے کہ دین کی خاطر جہاد جائز نہیں ہے۔امیر ڈرتا تھا کہ اگر یہ تعلیم پھیلی تو ہمارے ہاتھ سے وہ ہتھیار نکل جائے گا جو ہم ہمیشہ ہمیشہ ہمسایہ قوموں کے خلاف استعمال کیا کرتے ہیں۔ایک بے تعلق آدمی کی یہ شہادت ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے آدمی محض مذہب کی خاطر نہیں مارے جاتے بلکہ وہ اس لئے بھی قتل کئے جاتے ہیں کیونکہ وہ اس امر کی تعلیم دیتے ہیں کہ مذہبی