سفر یورپ 1924ء — Page 18
۱۸ سے وہ نقشہ جم نہ سکا اور ہمارے بھائی حقیقت حال اور ٹھیک نقشہ کے دیکھنے سے محروم رہ گئے تا ہم چند فوٹو لے لئے گئے جو غالبا حضرت میاں صاحب لنڈن پہنچ کر ٹھیک بنانے کی کوشش کریں گے۔غیر معمولی شدت تلاطم : ہمارے دوست تو خیرا کثر کا پہلاسفر تھا۔حالات کی شدت کا پتہ اس امر سے لگ سکتا ہے کہ جہاز کے عملہ کا اکثر حصہ بیمار پڑ گیا اور جہاز والوں کو حضرت سے مدد کی درخواست کرنی پڑی۔کھانا وغیرہ وقت سے بے وقت ملنے لگا اور ان کے ہسپتال کے کمرہ میں کوئی جگہ باقی نہ رہی اور ان میں بھی گھبراہٹ کے آثار نظر آنے لگے۔جہاز کا چوتھا دن : تیسرے دن کے بعد کی رات خطر ناک تھی۔جہاز کے ہر حصہ میں پانی پھرتا تھا۔اونچے سے اونچا حصہ بھی سمندر کی لہروں سے محفوظ نہ تھا۔فرسٹ کلاس ڈرائینگ روم سب سے او پر تھا مگر وہاں بھی لہروں کے تھپیڑے پہنچ کر ورا نڈا کے فرش کو تر بہ تر کر دیتے تھے۔ہم لوگ عموماً فرسٹ کلاس ڈیک پر رہتے ہیں مگر وہ ایسی حالت میں تھا کہ ایک لمحہ کے واسطے بھی خشک نہ ہوتا تھا ڈیک چیر ز ( کرسی ) بالکل بریکا رتھیں۔کپڑے ، بسترے اور تمام سامان تر تھا - الامان الحفیظ - ذرا وقفہ دیکھ کر جو لیٹے تو پانی کی رو آئی اور آدمی لڑ کھنے لگے۔جوں توں کر کے رات گزاری۔صبح ہوئی نمازیں اپنی اپنی جگہ پر ادا کی گئیں۔حکم تھا صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ - حضور کی طبعیت پرسی کے واسطے گیا تو ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ حرارت تیز ہو گئی ہے اور طبیعت زیادہ خراب ہے۔دل پریشان ہوا۔دوستوں کو اطلاع دی گئی۔سب دعاؤں میں لگ گئے۔ہمارا جہاز پانی کے اوپر قریب ۲۰ فٹ کے بلند ہے مگر بعض اوقات لہریں ایسی خطرناک حالت میں آتی تھیں کہ جہاز کے اوپر ۲۰ فٹ اور بلند ہو جایا کرتی تھیں۔حضور زیادہ تکلیف کی وجہ سے بالکل بالائی منزل میں تشریف رکھتے تھے۔دفعہ ایک لہر ایسی اٹھی کہ اس سے پہلے کبھی نہ اٹھی تھی حضور کا تمام لباس مبارک بھیگ گیا اور تمام جہاز اس کی زد اور ٹکر سے کانپ گیا اور چندلحہ کے واسطے جہاز ایسا نظر آتا تھا کہ زیر آب ہو گیا ہے۔الامان الحفیظ۔حضور فور اوہاں سے تشریف لے آئے۔کمرہ میں آئے اور باتوں باتوں میں فرمایا کہ جی چاہتا ہے کہ صرف ایک شعر ہی تار میں