سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 266 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 266

۲۶۶ پارٹی کے مقام کو تشریف لے گئے ہیں۔مجھے مضمون رکھنے کا حکم دے کر فرما گئے ہیں کہ واپسی پر مجھے آتے ہی یا دکرا دینا۔سیکرٹری کے سوال پر کہ کون پڑھے گا۔فرمایا میں خود یا چوہدری ظفر اللہ خان صاحب پڑھیں گے۔اس نے عرض کیا کہ ہندوستانی کی بجائے اگر کوئی انگریز پڑھے تو اچھا ہوگا کیونکہ ایک تو لہجہ کے اختلاف کی وجہ سے سمجھنے میں دقت ہوگی ، دوسرے لوگ پڑھنے والے کی شکل و شباہت کو دیکھنے کی وجہ سے پوری توجہ نہ کر سکیں گے۔مگر حضرت نے کل پورٹ سمجھ ہی میں فیصلہ فرما لیا تھا کہ مضمون حضور خود ہی پڑھیں تا کہ حضرت مسیح موعود کی وہ پیشگوئی ٹھیک ٹھیک طور پر من و عن پوری ہو۔اگر چہ کل کا مضمون جو حضرت نے گرجا گھر کے ممبر پر کھڑے ہو کر پڑھا تھا اس کو بھی دوستوں نے اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر چسپاں کیا مگر حضور کا یہی منشا معلوم ہوتا ہے کہ حضور کا نفرنس میں بھی خود ہی پڑھیں۔ایک اخبار میں کسی پادری نے حضور کے متعلق ہر ہولی نس کے الفاظ اخبارات میں پڑھ کر اس کی مخالفت کی ہے اور ایک نوٹ شائع کرایا ہے کہ اس کے خلاف ہم کو پروٹسٹ کرنا چاہیے کہ ہر ہولی نس کا خطاب حضور نے حضرت مسیح کا کیوں چھین لیا ہے۔ایک اخبار نے شائع کیا ہے کہ آریہ سماج اور بر ہموازم اکٹھے ہو گئے ہیں اور کہ ان کا ایک نمائندہ قادیان سے مذہبی کا نفرنس میں لیکچر دینے کو آیا ہے۔عجیب ہی یہ لوگ ہیں اور عجیب ہی ان کے دماغ کہ آریہ سماج اور برہمو ازم کے الحاق میں قادیان کی نمائندگی کے خواب پریشان دیکھتے ہیں۔ایک اخبار نے حضرت اقدس کو چیلنج کیا ہے اور دعوت دی ہے کہ آپ تو اسلام کی خوبیاں بیان کریں گے مگر اگر آپ عیسائیت کے مضامین بھی اسی کا نفرنس میں سنیں گے تو ضرور ہی امید کی جاتی ہے کہ آپ عیسائی ہو جائیں گے۔کیوں نہ ہو کا سر صلیب شخص کے متعلق یہ مجنونا بڑ ہانکنا یورپ ہی کے حصہ آیا ہے۔ایک اخبار میں دوکنگ کے متعلق کوئی مضمون شائع کر کے خواجہ صاحب اور ہمارے