سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 264 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 264

۲۶۴ میں نے تو جس نیت اور غرض کے لئے یہ باتیں لکھیں وہ اللہ کو معلوم ہیں۔میں نے حضور کی اس غیرت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا تھا جو ایک مولوی نے حضور کو متکبرانہ لہجہ میں کہا تھا اور حقارت کی تھی کہ عجمی لوگ کیا عربی کو سمجھیں گے اور کیا قرآن کریم کو ہم سے زیادہ جانیں گے وغیرہ وغیرہ۔اس پر حضور نے جس غیرت کا اظہار فرمایا تھا اس کی ذیل میں ہی وہ باتیں تھیں اور واقعات تھے کہ حضور نے ایسی تجاویز کا ذکر فرمایا مگر ان باتوں کو عورتوں تک پہنچانا اور پھر ایسے طریق سے یہاں لکھنا نہ معلوم اس میں کیا حکمت و غرض تھی ؟ میں نے تو عزیز عبد القادر کی معرفت حضرت میاں صاحب کی خدمت میں عرض بھی کر بھیجا تھا کہ ضروری نہیں کہ میرے نام خطوط سب کو سنائے جائیں بلکہ عرض کیا تھا کہ بعض حصے خطوط کے عام کرنے والے نہیں ہوتے لہذا حضرت میاں صاحب جس کو چاہیں یا اجازت دیں سنا دئیے جائیں اور جسے مناسب نہ ہو نہ سنایا جایا کرے یا جو حصہ پبلک کرنے کے قابل نہ ہوا سے پبلک نہ کریں۔بعض باتیں آج نہیں تو کل یا کسی آنے والے زمانہ میں تاریخ احمدیت کے جہاں اہم ستون ثابت ہوں گی وہاں سید نا حضرت اقدس کی پاک سوانح پر بھی روشنی ڈالنے میں معاون ہوں گی۔تعجب ہے حضرت مفتی صاحب جیسا انسان اور میرے لئے یہ دکھ۔اللہ مجھ پر رحم کرے۔میں تو محبت و عشق میں خون پانی ایک بنانے سے دریغ نہ کروں مگر دوست میرے واسطے اس قسم کے رنج دہ حالات پیدا کریں جو کم از کم میرے جیسی طبیعت کے انسان کے لئے ناقابل برداشت ہیں۔خصوصاً جب کہ میرے آقا ومحبوب کی زبان پر میرے لئے کوئی ایسا لفظ آ جائے۔یا اللہ رحم - میں نہیں سمجھتا کہ قادیان کے دوستوں کی مرحبا جزاک اللہ سے مجھے کیا خوشی ہو سکتی ہے اگر اس کا نتیجہ حضرت کی ناراضگی اور حضرت امام کی ناپسندیدگی ہو کیا عرض کروں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔آج ٹی پارٹی ہے۔وہ چونکہ ہندوستان کے مسلمان لڑکوں کی طرف سے دی گئی ہے ضرور ہے کہ وہاں تبلیغ ہو یا سوال وجواب کا سلسلہ چلے۔مجھے بھی کہا جا رہا ہے کہ چلوں مگر جس وقت سے حضرت اقدس نے وہ کلمات فرمائے ہیں میرا خون خشک ہو رہا ہے۔کھانے تک کو دل نہیں چاہا۔دل میں رنج اور صدمہ ہے تو میں کیسے ایسی پارٹی میں شریک ہو سکتا ہوں۔نہ جاسکتا ہوں اور نہ وہاں کے حالات عرض کر سکوں گا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔