سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 16 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 16

17 مگر یہ دونوں صاحب چند منٹ کی نشت کے بعد حضور سے اجازت لے کر واپس چلے گئے اور بیٹھنے کی تاب نہ لا سکے۔بھائی جی اور چوہدری فتح محمد خان صاحب کو خدمت کی توفیق ملی : اس موقع پر حضور نے دوستوں کی عیادت فرمائی اور حال پرسی کی۔سب نے خادم قادیانی اور مکرمی چوہدری فتح محمد خان صاحب کا شکریہ ادا کیا اور مرحبا جزاک اللہ اور تحسین و آفرین کہی۔اس پر حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا اب بتاؤ اگر آپ لوگوں میں سے ہر ایک خادم تھا اور کسی خادم کی ضرورت نہ تھی اگر آپ کے مشورہ پر عمل کیا جاتا تو آج کیا حال ہوتا؟ کوئی پانی پوچھنے والا بھی نہ ہوتا۔ہر ایک اپنی جگہ بے کسی اور بے بسی کی حالت میں نہ معلوم کیا کچھ کرتا اور کر بیٹھتا۔بعض دوستوں نے سر جھکا لئے۔بعض نے عرض کیا کہ حضور ہم تو اس بات کی تائید میں تھے کہ ضرور بھائی جی کو کم از کم جانا چاہئیے وغیرہ۔مگر حضور نے فرمایا جوفر مایا اور کہا کہ صرف ایک شخص حضرت میاں بشیر احمد صاحب سلمہ ربہ ) اس امر کی تائید میں رہے اول سے آخر تک کہ آدمی جانا چاہئیے اور وہ بھائی جی ہوں باقی لوگ عام طور پر مخالف ہی تھے اور کہتے تھے کہ کیا ضرورت ہے ہم سب لوگ حضور کے خادم ہیں۔فرمایا : ان دنوں میں اس سفر کے دوران میں بھائی جی اور چوہدری فتح محمد خان صاحب نے شیروں کا کام کیا ہے۔جزاهم الله تعالى احسن الجزاء اور باقی لوگ گیڈر بلکہ گیڈر بھی تو نہیں بن سکے۔آم حضور نے کھائے۔لوگوں کو کھلوائے۔پاس ہی ایک لیڈی تھی اس کو اور دو بچے تھے ان کو بھی حصہ دلایا۔بہت خوش ہوئے۔آم کی عمدگی اور خوش مزگی کی تعریف فرمائی۔بار بار اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور لانے والوں کے واسطے خاص طور پر دعائیں کیں اور دوستوں کو بھی دعا کے واسطے حکم دیا۔( عزیز اسلم اور عبدالغفار خان صاحب کو مبارکبادصد ہزاراں ) دعاؤں کے بعد جلسہ ختم ہوا۔حضور تین بجے کے بعد اندر تشریف لے گئے۔بمبئی میں عزیز با بوعبد الغنی صاحب کو مولوی رحیم بخش صاحب بعض مقامات پر تار دینے کو کہہ آئے تھے لنڈن ، مصر،