سفر یورپ 1924ء — Page 15
۱۵ لگتا ہے مگر آپ ظاہر نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔چوہدری علی محمد صاحب کہتے تھے کہ کاش مجھے ان حالات کا علم ہوتا اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ ایسے خطر ناک حالات پیش آئیں گے تو میں حضور کو کبھی بھی سمندر کے ایسے خطر ناک سفر کے لئے نہ آنے دیتا اور اپنا پورا زور ساری طاقت اس بات کے لئے صرف کر دیتا کہ جس طرح بن پڑے حضور خود یہ سفر نہ کریں۔اب یہ حالات دیکھ کر پچھتاتا ہوں۔ایک غلط نہی : چوہدری علی محمد صاحب کی روایت ہے کہ شیخ یعقوب علی صاحب نے گھبرا کر کہا کہ ہمارے اولوالعزم بھی کیسے ہیں ہمیں کہاں لا ڈالا ہے۔( بعد میں معلوم ہوا کہ یہ خود چوہدری صاحب ہی کا خیال تھا۔خیال کے وقت کہیں شیخ صاحب سامنے آگئے تو چو ہدری صاحب کو یہی خیال پختہ ہو گیا کہ شیخ صاحب نے ایسا کہا ہے جب کہ شیخ صاحب نے ایسا نہ کہا تھا۔زبانی شیخ صاحب عرفانی) گو حضور کو حرارت تھی اور طوفان کی شدت اور جہاز کی بے طرح حرکت سے حضور بھی اس قابل نہ تھے کہ اُٹھتے مگر محض دوستوں کی دلجوئی کی خاطر حضور نے اپنا آرام قربان کیا اور باہر تشریف لائے۔اول وہ آم منگائے جو عزیز اسلم صاحب نے بڑے اخلاص سے فرخ آباد سے لے کر متھرا جنکشن پر پیش کر کے درخواست کی تھی کہ حضور ضرور ان میں سے کچھ نوش فرما ئیں اور ساتھ ہی خان صاحب عبدالغفار خان صاحب آف قائم گنج کے آوردہ آم بھی منگائے۔ایک حصہ جہاز کے افسروں کے واسطے اپنے دست مبارک سے الگ کیا اور دوسرا باہر بھیج کر فرمایا کہ برف منگا کر ان کو ٹھنڈا کیا جاوے ہم بھی آویں گے۔سیکنڈ کلاس ڈرائینگ روم کے سایہ دار ورائڈہ میں نوش کیا گیا۔آم ٹھنڈے کئے گئے۔حضور کرسی پر تشریف فرما تھے اپنے ہاتھ سے نسل نسل کے آم تراش کر قاش بنانے کے واسطے مجھے اور چوہدری فتح محمد صاحب کو دیئے۔سب دوستوں کو بلوایا حتی کہ شیخ صاحب مصری جو برابر تین دن رات اپنی جگہ سے نہ ہلے تھے اور ایک کہنہ مشق سادھو کی طرح ایک ہی حالت میں تپسیا کا منظر دکھا رہے تھے ان کو بھی کھینچ تان کر بلوایا گیا۔شیخ صاحب عرفانی جو حضور کے ہمرکاب ایک جرنلسٹ کی حیثیت میں آئے تھے اور برابر تین دن رات سے زیریں حصہ ڈیک میں پڑے تھے ان کو بھی بلوایا گیا