سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 247 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 247

۲۴۷ یہ پیغام کیسا اُمید افزا ہے۔کس طرح بندے اور خدا تعالیٰ کے درمیان صلح کرانے والا ہے۔مجھے اس کے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں مگر میں اس بات کے کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس پیغام کے ذریعہ سے مسیح موعود نے خدا تعالیٰ اور بندوں کے درمیان صلح کرا دی ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ آج کل کے لوگ خدا تعالیٰ سے سوتیلے بیٹے کا سا تعلق نہیں رکھتے بلکہ وہ ان سے ایسی محبت کرتا ہے جیسا کہ سگے بیٹے سے کی جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود کا دعوی معمولی دعوی نہیں۔آپ کا دعوی ہی آپ کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ کہنا تو آسان ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں مگر یہ کہنا کہ میں ہراک شخص کو خدا تعالیٰ تک پہنچا سکتا ہوں نہایت مشکل ہے۔اول الذکر ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جس کی صحت اور عدم صحت صرف دلیلوں سے تعلق رکھتی ہے اور دلیلوں میں بہت کچھ اُتار چڑھاؤ کئے جا سکتے ہیں مگر ثانی الذکر دعویٰ جس کا تعلق مشاہدہ سے ہے اور مشاہدہ کرا دینا آسان کام نہیں مگر مسیح موعود نے نہ صرف یہ دعوی کیا بلکہ ہزاروں آدمیوں نے آپ کی تعلیم پر چل کر خدا تعالیٰ کے نشانات کو دیکھ لیا اور اس کے کلام کو سنا اور وہ آپ کے دعوی کی صداقت کی دلیل ہیں۔کیا کوئی جھوٹا شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس کی اتباع سے لوگ اسی طرح خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتے ہیں جس طرح کہ پہلے لوگ پہنچا کرتے تھے۔کیا ایسے شخص کا دعویٰ تھوڑے ہی دنوں میں جھوٹا ثابت ہو کر اس کی رسوائی اور ذلت کا موجب نہیں ہوگا ؟ اے پورٹ سمجھ کے لوگو! میں تمہارے لئے ایک بشارت لایا ہوں۔ایک عظیم الشان بشارت یعنی خدا کا پیغام کہ اس نے تم کو چھوڑ نہیں۔اس کی رحمت کے دروازے تمہارے لئے کھلے ہیں۔ان میں داخل ہونا تمہارے اپنے اختیار میں ہے۔اس کی بتائی ہوئی شریعت پر عمل کرو اور اس زندگی میں ایک زندہ خدا کی طاقتوں کو دیکھ لو۔سب مذاہب اُدھار پر لوگوں کو خوش کرتے ہیں مگر مسیح موعودؓ جو چیز پیش کرتا ہے وہ نقد ہے۔مرنے کے بعد نہیں بلکہ اسی دنیا میں خدا تعالیٰ سے لگا نگت کا وہ وعدہ دیتا ہے۔وہ باتیں جن کو تم حیرت اور استعجاب سے بائیل میں پڑھتے تھے آج اس کے ذریعہ سے ممکن ہو گئی ہیں۔تجربہ کرو اور دیکھ لو مسیح موعود کی زندگی تمہارے لئے ایک نمونہ ہے اور قرآن شریف تمہارے لئے ایک کامل راہ نما ہے۔کیا یہ امرلوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں کہ