سفر یورپ 1924ء — Page 248
۲۴۸ آج سے چونتیس سال پہلے ایک شخص نے جنگل سے آواز دی کہ دیکھو خدا کی طرف سے پکارنے والے کو سنو! ایک منادی کی آواز کو۔خدا کی رحمت کے دروازے کھولے گئے ہیں۔وہ اپنی مخلوق کی بہتری کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔وہ میرے ذریعہ سے سب دنیا کو ایک ہاتھ پر جمع کرنا چاہتا ہے۔وہ دنیا کو شک اور شبہ کی زندگی سے نکال کر یقین کا پانی پلانا چاہتا ہے۔شہروں کے لوگ ہنسے۔بستیوں کے لوگوں نے تیوری چڑھائی۔حکومتوں نے اسے حقارت سے دیکھا۔رعایا نے اس سے تمسخر کیا مگر اس کی آواز باوجود ہر قسم کی مخالفتوں کے بلند ہونی شروع ہوئی۔وہ بار یک بانسری کی آواز بلند ہوتے ہوتے ایک بگل کی آواز بن گئی اور سونے والے گھبرا گھبرا کر بیدار ہونے لگے۔ایک نے یہاں سے ایک نے وہاں سے اس آواز کی طرف دوڑنا شروع کیا۔وہ اکیلا منادی ایک سے دو ہوا اور دو سے چارھتی کہ چونتیس سال کے عرصہ میں اس کی جماعت کی تعداد ایک ملین کے قریب پہنچ گئی اور پچاس ملکوں میں اس کے ماننے والے پیدا ہو گئے۔یہ ترقی بے روک ٹوک کے نہیں ہوئی۔لوگ پھولوں کی سیچوں پر چل کر اس تک نہیں پہنچے بلکہ بہتوں کو اس کے ماننے کی وجہ سے گھر چھوڑنے پڑے۔خاوندوں کو بیویوں سے جُدا ہونا پڑا اور بیویوں کو خاوندوں سے علیحدہ ہونا پڑا۔باپ کو بیٹوں نے الگ کر دیا اور بیٹوں کو والدین نے گھر سے نکال دیا۔ظالم حکومتوں نے اس کی طرف متوجہ ہونے والوں کو گرفتار کیا اور مجبور کیا کہ اس پر ایمان نہ لائیں ورنہ ان کو قتل کیا جائے گا مگر وہ پیچھے نہ ہٹے اور مرنے میں انہوں نے وہ لذت محسوس کی جو دنیا کی اور کسی چیز میں نہیں ہے۔وہ ہنستے ہنستے ظالموں کے سامنے سر بلند کر کے کھڑے ہو گئے اور سنگدل قاتلوں نے ان پر پتھروں کا مینہ برسانا شروع کیا۔ایک ایک پتھر جو - اُن پر گرا اس کو انہوں نے شگوفہ خیال کیا جس طرح دولھا دلہن کو لے کر خوش خوش اپنے گھر جاتا ہے اسی طرح وہ مسیح موعود کی محبت کو لے کر اپنے مولیٰ کے سامنے حاضر ہو گئے اور انہوں نے یہی یقین کیا کہ نہایت عمدہ سودا ہے۔ان راستوں سے گزر کر جانا معمولی بات نہیں مگر مسیح موعود کی آواز کچھ ایسی دلکش تھی کہ جن کے کان کھلے تھے ان میں طاقت ہی نہ رہی کہ وہ اس کا انکار کر سکتے۔اس نے دلوں کو شکوک اور شبہات سے دھود یا اور قلوب کو یقین اور ایمان سے بھر دیا اور ان لوگوں کو جنہوں نے اس کی تعلیم پر