سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 236 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 236

۲۳۶ against the son of man it shall be forgiven him, but whosoever speaketh against the Holy Ghost it shall not be forgivon him, neither in this world, neither in the world to come'۔St۔Methew 12۔31,320 ان الفاظ میں خدا تعالیٰ کے ایک مقدس نبی نے ان لوگوں کو جو ایک آسمانی پیغام کا انکار کر رہے تھے آج سے انیس سو سال پہلے مخاطب کیا تھا اور ان الفاظ کا زور اور طاقت آج بھی ایسا ہی قائم ہے۔ان تمام روایات کو اگر الگ کر دیا جائے جو قوت واہمہ نے روح القدس کے لفظ کے گرد جمع کر دی ہیں تو روح القدس وہ فرشتہ ہے جو خدا تعالیٰ کا پیغام حضرت مسیح کے پاس لایا تھا اور حضرت مسیح علیہ السلام کی مراد مذکورہ بالا الفاظ سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ ہر قسم کا گناہ اور کفر انسان کو بخشا جائے گا مگر وہ کفر اور گناہ جو خدا کے کلام کے خلاف ہو گا نہیں بخشا جائے گا۔ابن آدم یعنی مسیح کی ذات کے خلاف اگر کوئی شخص کہے گا تو اس کی معافی کی امید ہے مگر جو شخص اس پیغام کے خلاف کچھ کہے گا جو ابن آدم لایا ہے وہ اس دنیا میں بھی سزا پائے گا اور اگلے جہان میں بھی۔یہ فقرے ایک زبر دست صداقت اپنے اندر رکھتے ہیں۔ایسی صداقت جس کے اندر ایک شائبہ بھی غلطی کا نہیں۔اگر ذرا بھی غور کر کے دیکھا جائے تو عقل اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہوتی ہے کہ اگر کوئی خدا ہے اور اگر وہ دنیا کی اصلاح کے لئے کوئی پیغام بھیجتا ہے اور اگر اس کا پیغام واقع میں دنیا کے فائدہ کی باتوں پر مشتمل ہوتا ہے نہ کہ بے معنی اور بے فائدہ باتوں پر تو جو شخص اس کلام کا انکار کرے یا اس کی طرف سے منہ پھیرے ضرور اسے اپنے عمل کا خمیازہ بھگتنا چاہیے۔ہم کسی شخص کو کسی جگہ کا راہ بتادیں اور وہ باوجود ہماری ہدایت سے بے پروائی کرنے کے بے تکلف اور بے تکلیف کے منزل مقصود پر پہنچ جائے تو یقینا ہماری ہدایات کی غلطی ثابت ہوگی اگر ہماری ہدایات درست ہو تیں تو وہ شخص کبھی بغیر ٹھو کر کھانے اور اپنی اصلاح کرنے کے منزل مقصود پر نہ پہنچ سکتا۔اسی طرح اگر خدا کا کلام بھی کسی ہدایت پر مشتمل ہوتا ہے تو یقیناً اس کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں انسان کو دکھ پہنچنا چاہیے نہ اس لئے کہ خدا ایک کینہ رکھنے والی ہستی ہے بلکہ اس لئے کہ خلاف کرنے والے نے اس راستہ پر قدم ما را جو تکلیفوں اور دکھوں کا راستہ تھا۔خدا کا کلام اس لئے دنیا میں نہیں آتا کہ وہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کا امتحان لے بلکہ اس لئے آتا ہے کہ تا وہ لوگوں کو اس راستہ کی خبر دے جو