سفر یورپ 1924ء — Page 219
۲۱۹ صاحب کسی حاجت کی وجہ سے پہلی پارٹی کے ساتھ نہ جا سکے تھے۔موٹر میں جگہ نہ تھی لہذا چو ہدری فتح محمد خان صاحب اور میاں رحم دین صاحب دونوں تھوڑی دور پیدل چل کر پھر ایک بس پر سوار ہوکر وہاں حضرت کے پیچھے پیچھے جاپہنچے۔جب چوہدری صاحب وہاں پہنچ گئے جن کے متعلق حضور کو خیال تھا کہ وہ شاید نہ پہنچ سکیں تب حضرت اقدس نے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب اور دوسرے ساتھی کہاں ہیں ؟ خان صاحب ہمیں نیچے کمرہ میں آئے ہوئے دیکھ کر اوپر گئے تھے۔انہوں نے عرض کیا حضور وہ سب آگئے ہیں اور نیچے ہیں۔حضور نے فرمایا کیا کرتے ہیں؟ خان صاحب نے عرض کیا حضور دیکھ رہے ہیں۔خان صاحب کا یہ کلمہ کہنا تھا کہ حضور بہت خفا ہوئے اور سخت ناراضگی سے ملک غلام فرید صاحب کو فرمایا کہ جاؤ ان سے کہہ دو کہ وہ لوگ گھر کو چلے جائیں مگر حضور نے جیسا کہ بعد میں فرمایا اس حکم سے مراد صرف مبلغ لوگ تھے مگر ملک صاحب نے اس حکم کی کوئی تصریح نہ کی اور بلا امتیاز سب کو حضرت اقدس کا حکم پہنچا دیا۔ادھر جب خان صاحب نیچے سے یہ کہہ کر اوپر گئے کہ میں حضرت اقدس کو لاتا ہوں مولوی عبدالرحیم صاحب درد بہت گھبراہٹ میں تھے کیونکہ وہ سن چکے تھے اور سمجھ چکے تھے کہ اب کسی ڈرامہ کا اعلان ہوا ہے اور اب ہمیں حضرت اقدس کے حکم کے مطابق یہاں نہ بیٹھنا چاہیئے۔وہ گھبرا کر مولوی محمد دین صاحب سے، شیخ صاحب عرفانی صاحب سے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا کرنا چاہیئے۔میں نے عرض کیا کہ امیر قافلہ کون ہے انہوں نے کہا افسر مولوی محمد دین صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں بیٹھے رہو اور شیخ صاحب عرفانی نے بھی ایسا ہی کچھ جواب دیا۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ میری گھبراہٹ کو دیکھ کر ڈاکٹر صاحب بھی گھبرائے اور میرے بعد ڈاکٹر صاحب نے بھی مولوی محمد دین صاحب سے پوچھا مگر مولوی صاحب نے جو کہ ہمارےاس وقت افسر تھے انہوں نے ان کو بھی یہی جواب دیا کہ کوئی حرج نہیں بیٹھے رہو۔مگر با ایں ہمہ مولوی صاحب گھبراہٹ کے مارے اُٹھ کر اوپر چلے گئے۔ڈاکٹر صاحب نے ان سے کہا کہ ہمیں بھی اطلاع دینا مگر وہ کہتے ہیں کہ میں صرف یہ کہہ کر چلا گیا کہ حضرت کی خبر لاتا ہوں۔چلے گئے اور پھر نہ آئے۔بعد میں معلوم ہوا کہ پکڑے گئے اور سخت پکڑے گئے۔حضور ناراض ہوئے اور سخت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم یہاں کیوں آئے ہو۔گھر چلے جاؤ وغیرہ۔