سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 197 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 197

۱۹۷ تار یہاں کے اخبارات میں شائع ہوا ہے کہ ان کو کسی سیاسی معاملہ میں قتل کیا گیا ہے۔اس کا جواب حضور ۱۰ بجے کے بعد لکھ رہے ہیں۔اس کے جواب میں حضرت خلیفہ اسیح نے حسب ذیل تار وائسرائے ہند کو دیا۔حضور نے مضمون تا رلکھا۔جس کا ترجمہ جناب چوہدری صاحب محترم ظفر اللہ خان صاحب نے کیا اور گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیجا گیا۔اس تار کے ۲۸۳ لفظ تھے۔۱۰؎ ( دس آنے ) فی لفظ والا تا ر دیا گیا۔۲۰ پونڈ کے قریب خرچ ہوئے۔نقل شامل کرتا ہوں۔آج شام کو حضور نے ٹائمنر کے اس تار کے جواب میں مفصل لکھنے کا ارادہ فرمایا ہے جو انشاء اللہ ترجمہ ہو کر پیر کے اخبارات میں شائع ہوگا تو انشاء اللہ تعالی نقل یا اخبار بھیج دوں گا۔خان صاحب کے ذکر میں میں نے لکھا تھا کہ گورنمنٹ آف انڈیا کے دفتر میں گئے۔اس سے دراصل انڈیا آفس مراد ہے۔چوہدری فتح محمد خان صاحب واپس آگئے۔انہوں نے بتایا کہ لنڈن کے مشہور ہال سنٹرل ہال میں گئے اور کوشش کی کہ وہ ہال لیکچر کے واسطے مل جائے مگر وہ نہ ملا اور لوگوں نے کہہ دیا کہ ہم نے سنا ہے کہ تم لوگوں نے بڑے زور سے تبلیغ اسلام کا تہیہ کر لیا ہے اس واسطے ہم لوگوں نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ یہ ہال آپ لوگوں کو نہ دیا جائے۔وہ لوگ چونکہ عیسائی ہیں ان کو حضور کی تشریف آوری اور کام کرنے سے سخت چوٹ لگی ہے۔انہوں نے لفظ جو استعمال کیا وہ کمپین (Compain) تھا کمپین (Compain) فوج کشی کرنا غالباً مراد ہے۔چوہدری صاحب نے ان سے کہا بھی کہ ہم نے کمپین (Compain) نہیں کی اور کوئی خاص حملہ نہیں ہے معمولی بات ہے۔اس بات کو حضرت اقدس نے پسند نہ کیا اور کہا کہ کیوں آپ نے انکار کیا اور ان کو حوصلہ دلایا۔ان کی کیوں نہ کمر ٹوٹنے دی۔آخر چوہدری صاحب دوسرے ہال کی طرف گئے جس کا نام کیکسٹن ہال ہے اور اس میں پانچ صد آدمی کی گنجائش ہے۔کرایہ ساڑھے سات پونڈ روزانہ ہے۔ان لوگوں نے مان لیا اور وعدہ کیا کہ ہال دے دیں گے۔پیر تک انتظار کریں گے اور کسی کے لئے ٹک نہ کریں گے۔۱۵ ستمبر کے دن دے سکیں گے۔اب حضرت اقدس کی منشا اور حکم سے پھر ان کو آرڈر کیا جاوے گا۔مسٹر داس گپتا ( جیسا کہ بنگالی آدمی کا نام ہے ) بھی آج شام کو آوے گا۔کھانا اسی جگہ کھائے گا اور مضمون اشتہار، مضمون