سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 9 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 9

۹ انگریزی میں بول چال : ۱۳ ء کی شام کو حضور نے حکم فرمایا کہ سب دوست مل کر ہا ہم انگریزی میں باتیں کریں اگر کوئی اردو میں بات کرے تو ایک آنہ جرمانہ ادا کرے۔انگریزی کے بعد عربی میں بھی اجازت کلام تھی مگر جب کوئی اور غیر لوگ شامل ہوں تو پھر اردو کلام کی بھی اجازت تھی۔یہ زور کلام انگریزی اور عربی کا بمبئی سٹیشن تک جاری رہا اور سید نا حضرت اقدس سے لے کر خادم قادیانی اور علی محمد صاحب تک بھی انگریزی میں کلام کرتے رہے مگر بمبئی میں اُتر کر وہ سلسلہ ختم ہو گیا۔بمبئی میں نزول : بمبئی سٹیشن پر گاڑی پانچ بجے بعد دو پہر پہنچی۔جماعت حاضر تھی۔موٹر میں موجود تھیں۔فوٹو کا سامان تیار تھا۔مصافحہ کے بعد فوٹو لیا گیا اور حضور فورا تھامس کٹک کے دفتر کو تشریف لے گئے جہاں صرف اور صرف حضور کی خاطر تمام دفتر اس وقت تک کھلا رکھا گیا تھا کیونکہ عموماً دفا تر ۴ بجے بند ہو جاتے ہیں مگر چونکہ حضور کا تارپہنچا ہوا تھا لہذا ان کو کھلے رکھنے پڑے۔حضور تشریف لے گئے۔کام کیا اور پھر واپس تشریف لائے اور مکان میمنی بلڈنگ پر ساڑھے سات بجے شام کے بعد پہنچے۔سامان اُتارا گیا۔دیکھ بھال کی گئی خدا کے فضل اور محض فضل سے برا بر اترا۔راستہ میں خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب کی جیب سے دس روپے کا ایک نوٹ دہلی اسٹیشن پر پہنچنے سے پہلے گم ہوا اور پھر چوہدری فتح محمد خان صاحب کی واسکٹ گم ہوگئی اور اس کے بعد دونوٹ اور دس دس کے خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب کے گم ہو گئے جو صرف سہل انگاری یا اپنی بے پروائی وغفلت کا نتیجہ تھا۔چور کوئی بیرونی نہ تھا یا کم از کم چوری کی نیت سے نہ آیا تھا۔یہ صرف بے پروائی کی وجہ سے گر گئے یا کسی نے بے توجہ پا کر اُٹھا لئے۔چوہدری فتح محمد خان صاحب کی واسکٹ میں صرف دو تین روپے تھے۔خان صاحب مکرم نے بتایا کہ میرٹھ سے چند گورے ہماری گاڑی میں آن گھسے تھے یہ کام انہی کا تھا۔ہمیں غافل پا کر نقصان پہنچا گئے۔اس کے سوا اللہ کے فضل سے باقی تمام قسم کا سامان بخیر و خوبی صحیح وسلامت بمبئی کے مکان تک پہنچ گیا۔فالحمد للہ الحمد لله ثم الحمد للہ رب العلمین۔بمبئی پہنچتے ہی تھا مس کٹک کمپنی کی طرف - سے اطلاع ملی کہ ہمارا جہاز الیں۔ایس افریقہ نامی صبح ساڑھے آٹھ بجے تیرے گا جس کے لئے