سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 162 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 162

۱۶۲ بھی صبر کرتا ہوں اور معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔افوض امری الی الله ان الله بصیر بالعباد انما اشكوا بثي وحزني الى الله - فقط عبدالرحمن قادیانی ۲۰ اگست ۱۹۲۴ء قتل ایک بہت بڑا گناہ ہے مگر میں جانتا ہوں کہ جو شخص کسی انسان کے روحانی پیشوا امام و مقتدا کوکسی بات پر ناراض کرنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ اس سے اس کی عزت افزائی ہو اور کارگزاری کا سہرا اس کے سر پر بندھے وہ قتل سے بھی بڑھ کر جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔اللہ اس پر رحم کرے۔فقط عبدالرحمن قادیانی حضرت کی یہ ناراضگی و خفگی اگر چہ ہم سب ساتھیوں پر تھی اور حقیقتا ایک شکوہ تھا جو شفقت پدری اور مہر مادری سے بھی بڑھا ہوا رنگ رکھتا تھا مگر میں نے دیکھا کہ اس کا سب سے زیادہ بوجھ میرے ہی قلب پر واقع ہوا۔اور بزرگوں نے سنا اور دل میں پشیمان ہوئے ہوں گے مگر ان کے ظاہر پر کچھ بھی اس کا اثر نہ تھا۔اس واقعہ کے معا بعد ہی خوشی ہنسی اور مذاق شروع ہو گئے مگر میرے قلب پر اس کا ایسا گہرا اثر ہوا کہ میں برابر اس واقعہ کے بعد ۴ ۸ گھنٹہ تک کچھ کھا سکا نہ پی سکامنتی کہ لندن پہنچ کر حضرت اقدس کو اس امر کا علم ہوا اور حضور نے نہایت شفقت اور رحم سے فرمایا کہ ہم ناراض نہیں ہیں محض شکوہ تھا اور بات کو دل میں نہ رکھا۔نکال دی تھی کہ تا دل میں رہ کر رنج کا موجب نہ بنے مگر بھائی جی اب نہیں کھاتے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ مقاطعہ کرتے ہیں۔بہتر ہو کہ خواہ دل چاہے یا نہ چاہے کچھ کھا لیں۔اس حکم کی تعمیل میں مجبوراً چند گھونٹ دودھ کے ٹھیک ۹۶ گھنٹے کے بعد میں نے نگلے۔میری رگیں اور پٹھے اتنے دن نہ کھانے پینے کی وجہ سے خشک ہو چکے تھے بہت مشکل سے ڈاکٹر صاحب کی محنت اور توجہ کے بعد جا کر تیسرے دن ٹھیک ہوئے۔روما سے ۲۰ کی شام کو روانگی ہوئی۔حضرت اقدس کا ٹکٹ اول درجہ کا تھا باقی سب تھرڈ