سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 4 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 4

وجہ سے گرتے گرتے بچ گئے۔ایک کرامت مگر ایک خاص واقعہ جو امرتسرسٹیشن پر پیش آیا وہ یہ تھا کہ ایک دوست اس کشمکش میں نیچے گر گئے اور حضور کی گاڑی کا پچھلا حصہ جس میں غالباً چار پہیتے تھے اور ایک اور پورا چھکڑا جو حضور کی گاڑی کے پیچھے لگا ہوا تھا جس کے کم از کم آٹھ پیتے تھے یہ سب اس گرنے والے مخلص کے پاس سے نکل گئے مگر کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت نہ ہوئی کہ اس مخلص کا ایک بال بھی بریکا کرے۔وہ شخص گرا اور بری طرح سے گرا۔میری آنکھوں نے اسے گرتے ہوئے تو نہ دیکھا مگر گرے ہوئے دیکھ لیا تھا۔میں نے دیکھا کہ خدا نے اپنے خاص فضل اور خارق عادت قدرت سے اپنا ہاتھ دے کر بچالیا تھا ورنہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے میں ذرا بھی کسر باقی نہ رہی تھی۔غرض خدا نے اس کو بچایا اور اس طرح سے اپنی معجز نمائی کے ذریعہ سے سٹیشن امرتسر کو ایک زندہ نشان دکھا کر اپنی محبت پوری کی تا سعید اس سے فائدہ اٹھائے اور شقی اپنی شقادت کی وجہ سے ملزم ٹھہر کر حجت ملزمہ کے نیچے آوے۔ریاست کپورتھلہ کے پُرانے اور مخلص خاندان مرحوم منشی محمد خان صاحب کے نونہال عبدالمجید خان صاحب مجسٹریٹ نے پنڈت سری ناتھ صاحب کو ( جن کا مکان متصل ( بیت ) اقصیٰ عالیشان عمارت کی صورت میں ہے ) امرتسر تک پیشوائی کے لئے بھیجا ہوا تھا اور ایک نقشہ ترتیب وار نشست گاہوں کا بنا کر روانہ کیا تھا تا کہ اُتر کر ترتیب دینے میں دیر نہ ہوا اور جلد سے جلد فوٹو لیا جا سکے۔بیاس : چنانچہ گاڑی جب بیاس ریلوے سٹیشن پر پہنچی تو حسب اطلاع حضور فوٹو کے واسطے تشریف لے گئے جہاں حضور کے تین مختلف فوٹو لئے گئے۔جالندھر، پھگواڑہ ، پھلور : پھر جالندھر شہر کے ٹیشن پر ، جالندھر چھاؤنی کے سٹیشن پر ، پھگواڑہ اور پھلور پر بہت ہی مخلص جماعتیں حاضر تھیں۔ضلع جالندھر اور ہوشیار پور کے مخلصین نے اپنی اپنی محبت اور اخلاص کا اظہار کیا۔