سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 133 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 133

۱۳۳ کٹک والوں نے یہ نہ بتایا اور گاڑی جس کے متعلق بتایا گیا تھا کہ پانی ملے گا نہ غسلخانہ و بیت الخلاء ہوگا۔اس میں سے پانی بھی مل گیا اور ایک جگہ بیت الخلاء بھی موجود تھا۔ہمیں محض اس وجہ سے ڈرایا گیا تھا کہ اس طرح پر ایک آدمی کم از کم دو دو بوتل سوڈا کی خریدے گا جس کی ادنیٰ قیمت سوار و پیہ ہو گی اور کنگ کو کمیشن مل جائے گا ورنہ گاڑی راستے میں ٹھہرتی بھی آئی اور بعض جگہ نصف گھنٹہ بھی ٹھہری اور پانی بھی ملتا رہا جس کی وجہ سے اور کوئی تکلیف نہ ہوئی۔پندرہ گھنٹہ میں ٹھیک گاڑی برنڈزی سے روما پہنچی گاڑی البتہ بہت معمولی قسم کی بنی ہوئی ہے۔ہم لوگ پنجاب کی گاڑی اور سرکار کو کوسا کرتے ہیں مگر کم از کم اٹلی میں گاڑیوں کا پنجاب سے بھی ادنیٰ حال ہے۔فٹ لمبی جگہ میں ے چارسیکنڈ کلاس مسافروں کو بیٹھنا ہوتا ہے۔سامان رکھنے کی کوئی جگہ نہیں سوائے اس کے کہ سر پر چھت کے قریب ایک چھوٹا سا بڑھاؤ تاگے سے بنا ہوا ہوتا ہے۔سیٹ کے نیچے کوئی جگہ سامان کے واسطے نہیں۔دوسیٹوں کے درمیان سیکنڈ کلاس میں بھی بمشکل اتنا فاصلہ ہے کہ زانو با ہم ٹکراتے ہیں۔کوئی آئینه، بیت الخلاء یا غسلخانہ نہیں البتہ سر پر گاڑی کے ایک حصہ میں ایسا بنا ہے کہ جو ساری گاڑی میں چلا جاتا ہے۔گدیلے بھی کوئی صاف نہیں۔میلے کچیلے اور پرانے ہیں۔سید نا حضرت اقدس فرسٹ کلاس میں تھے۔ایک انگریز اور ایک اٹالین حضور کے ہم سفر تھے۔انگریز کو حضور نے تبلیغ کی اور اٹالین نے حضور کی بہت کچھ خدمت کی۔ادب احترام اور ایشیائی طریق سے مدارات کرتا رہا جس سے حضور بہت خوش ہوئے اور اندازہ کیا کہ اٹلی کے لوگ ہماری تبلیغ کے لئے زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ان میں اخلاق ، اخلاص اور ایثار کا مادہ موجود ہے۔شرافت میں بعض دوسری اقوام سے آگے بڑھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔محبت ، ملنساری اور ہمدردی بھی ہے جس کا ہم نے بھی آج بازاروں میں تجربہ کیا ہے اور اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ بڑے بوڑھے اور جوان اور بچے ہم سے ہمدردی کرتے رہتے ہیں مگر برنڈ زی میں اس سے خلاف معلوم ہوا تھا۔گاڑی میں چونکہ راستہ ہوتا ہے کسی عورت نے گزرتے ہوئے حضور کو دیکھ لیا ہوگا وہ دوڑی دوڑی اور کئی عورتوں کو لے آئی اور حضور کے کمرے میں آن گھسی۔کچھ باتیں کرنا چاہتی تھیں کہ حضور کے رفیق سفرا ٹالین نے ان کو سمجھا کر واپس کر دیا اور اس طرح وہ چپکے سے چلی گئیں۔یہ علاقہ بھی جس میں سے ہو کر ریل گزرتی آئی ہے نہایت ہی سرسبز اور شاداب ہے۔انگور