سفر یورپ 1924ء — Page 121
۱۲۱ گزاریں بلکہ کثرت سے دعائیں کریں۔پھر فرمایا کہ کل صبح انشاء اللہ 9 بجے کے قریب برنڈزی پہنچیں گے لہذا جہاز سے اترنے سے پہلے اور جہاز سے اتر کر پراگندہ نہ ہوں بلکہ پہلے بھی دعائیں کریں مل کر جمع ہو کر دعا کریں اور پھر جہاز سے اتر کر بھی دعائیں مل کر کریں تب جدھر حکم ہو روا نہ ہوں۔سامان وغیرہ کی نگرانی اور نقل و حرکت کے متعلق ہدایات دیں اور فر مایا کہ جہاں جہاں اُترنا اور ٹھہرنا ہو گا ان مقامات کے پتے زبانی یاد کر لیں تا کہ اگر کوئی بھول بھی جائے تو اس مقام کا پتہ معلوم کر کے پہنچ سکے۔روم میں بھی اور دوسرے مقامات پر بھی اس بات کو اچھی طرح مد نظر رکھا جائے۔یہ بھی فرمایا کہ اگر بھول جائیں تو پولیس سے پتہ معلوم کریں کیونکہ دوسرے لوگوں سے پو چھنے میں بعض اوقات خطرہ دھوکا کا ہوا کرتا ہے۔ان ہدایت پر کار بند رہنے کی تاکید فرمائی اور دعاؤں پر زور دینے کا خاص طور پر حکم دیا ہے تا کہ یہ سفر با برکت ہوا اور غرض و غایت اس کی بطریق احسن اللہ تعالیٰ پوری فرمائیں۔یہ بھی حکم دیا کہ ڈنر ( کھانے ) کے بعد مولوی عبد الرحیم صاحب درد بے تار برقی پیغام کے ذریعہ سے معلوم کریں کہ چوہدری فتح محمد خان صاحب کسی دوسرے جہاز میں سوار ہو گئے ہیں یا کہ نہیں؟ یہ بھی فیصلہ فرمایا کہ وہ لمبا تار جو پورٹ سعید سے روانگی کے وقت لکھا گیا تھا اور جس میں شام کی کامیابیوں کا ذکر بھی تھا مع کچھ ایزادی کے اب برنڈزی پہنچ کر دے دیا جاوے تا کہ قادیان کے دوست زیادہ انتظار میں نہ رہیں۔سو مبارک ہو کہ آپ کی دلجوئی حضرت اقدس کو بہت ہی منظور ہے ورنہ رپورٹیں تو مفصل پورٹ سعید سے روانہ ہو ہی چکی تھیں جن میں ایک رپورٹ میری عین موقع کی لکھی ہوئی ۷۲ صفحات کی تھی مگر پھر وہی زیادتی خرچ کا سوال در پیش رہا جس کا حل یوں فرمایا کہ یہ مضمون تا رلنڈن بذریعہ خط بھیج کر غیر صاحب کو لکھا جائے کہ لنڈن سے بذریعہ تار قا دیان بھیج دیں اس میں بہت کفایت ہوگی اور پہنچ بھی جلدی جائے گا۔حضرت اقدس جہاز افریقہ کے اول درجہ کے کمرہ نمبر ۱۲ میں ٹھہرے ہوئے تھے اور اس جہاز پلسنا کے اول درجہ کے کمرہ نمبر ۱۷ میں رہتے ہیں۔ابھی ڈاکٹر صاحب تشریف لائے ہیں اور فرماتے ہیں کہ چلو تم کو اور علی محمد کو حضور نے یا دفرمایا ہے۔سو میں اب او پر حضرت اقدس کی خدمت میں جارہا ہوں ڈاکٹر صاحب دوائی بنالیں اور چوہدری علی محمد صاحب آلیں۔