سفر یورپ 1924ء — Page 92
۹۲ بیروت جانا ہے تیاری کرلو۔بازار میں آج کے تازہ پرچے تلاش کرنے کو گیا تو معلوم ہوا کہ پرچے ختم بھی ہو چکے ہیں۔آج پر چوں کی اس قدر مانگ تھی کہ ہاتھوں ہاتھ پک گئے۔بعض پرچے تو ہمیں ملے بھی نہیں۔لوگ پرچے بیچنے والے بھی حیران تھے کہ آج بات کیا ہے۔اخبارات والے آج فوٹو بھی لے گئے ہیں اور کل صبح روانگی کے وقت بھی لیں گے انشاء اللہ۔پولیس کے دفتر سے رسید مل گئی ہے کہ اشتہار ہم نے پریس سے سب اُٹھا لیا ہے اس وجہ سے اب پریس والوں کو مزدوری دے دی گئی ہے۔لوگ کل صبح کی روانگی سن کر بہت افسوس کر رہے ہیں کہ بہت تھوڑا وقت ہم لوگوں کو ملاقات کا دیا گیا ہے۔بعض کو تو موقع ہی نہیں ملا۔آج خبریں سن کر آئے تو پولیس والوں نے روک دیا۔ایک پارٹی اب تک کہ ساڑھے دس بج چکے ہیں بیٹھی حضرت اقدس سے باتیں سن رہی ہے۔پہلے گلے کی تکلیف کی وجہ سے حضرت نے ان کو شیخ صاحب مصری کے سپرد کیا تھا پھر خود ہی شروع ہو گئے اور مسئلہ نبوت اور صداقت مسیح موعوڈ پر ذکر فرمارہے ہیں۔آج رات معلوم ہوتا ہے کہ انشاء اللہ ساری ہی اس کام میں خرچ ہو جائے گی۔گیارہ بج چکے ہیں اور ابھی حضور پہلے وفد سے فارغ نہیں ہوئے۔ایک اور وفد آ گیا ہے جن میں سے ایک صاحب شکاگو کے ایم اے ہیں اور شکا گوامریکہ میں ایک عرصہ رہ چکے ہیں۔کھانا شام سے رکھا ہے مگر فرصت ہو تو کھا ئیں۔ہوٹل والے بھی حیران ہیں کہ یہ کیسا انسان ہے دن اور رات بولتا ہے اور تھکتا نہیں۔ہمارے طلبی صاحب مدیر کو تو حضرت اقدس پر خاص طور پر رحم آتا ہے دیکھیں اب اس وفد کو کب تک حضور وقت دیتے ہیں۔پونے بارہ بج چکے ہیں اب بھی نماز کی وجہ سے لوگوں کو اُٹھایا ہے اور خود اُٹھایا ہے تاکہ نماز کا وقت نہ جاتا رہے ورنہ وہ لوگ نہ اُٹھتے تھے نہ اُٹھنا چاہتے تھے اور تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ یہ لوگ واقف نہیں کوئی جان پہچان نہیں وہ لوگ بالکل اجنبی ہیں مگر اس طرح سے گرتے ہیں جیسے شمع پر پروانہ مقناطیسی جذب ہے لوگ کھچے چلے آتے ہیں اور اٹھنے کو نہیں چاہتے کوشش کر کے اُٹھایا ہے۔غرض خدا کے فضل کی بات ہے اس نے ایسا فضل کیا کہ سارے شام میں تبلیغ ہو گئی ہے اور آئندہ کے لئے راستے کھل گئے ہیں۔مدیر حلبی تو اللہ کے فضل سے ایسے گرویدہ ہیں