سفر یورپ 1924ء — Page 87
۸۷ جس کے مشرق میں حضرت اقدس نے نزول فرمایا ہے اس کی اوپر کی چوٹی سندھوری رنگ کی ہے اور باقی سفید ہے۔اذان کہنے کے واسطے ایک گیلری لکڑی کی ہے جس میں کھڑے ہو کر گر دا گر دموذن پھرتا ہوا اذان کہتا ہے۔سفیدی کچھ بہت تیز نہیں ہے مدھم سی سفیدی ہے۔حضرت اقدس نے جب صبح کی نماز کے بعد اس منارہ کو دیکھا اس نماز میں حضور کے ساتھ خان صاحب مکرم اور ڈاکٹر صاحب دونوں تھے۔ہمارے شیخ صاحب عرفانی نے آج عربی جبہ اور عربی قسم کا رستہ بجائے پگڑی سر پر باندھنے کے لئے خرید کیا ہے تا کہ لنڈن میں جا کر اسی لباس میں لوگوں سے ملاقات کریں اور اسی شکل میں ایک جرنلسٹ کی ڈیوٹی ادا کریں۔خان صاحب برٹش فضل کے ہاں سے واپس آگئے۔بتاتے ہیں کہ فضل خود تو موجود نہیں اس کا نائب ہے۔اول تو اس نے سلام عرض کیا اور معذرت کی ہے کہ میں ملاقات کی غرض سے حاضر نہیں ہو سکا۔اس کا بڑا باعث یہی ہے کہ فضل صاحب کے بعد دفتر میں اور کوئی موجود نہ تھا اس وجہ سے میں حاضر نہ ہو سکا۔میری غیر حاضری کو کسی خاص بات پر محمول نہ کیا جاوے۔پھر کہا کہ کیا واقعی کوئی بات شرارت کی ہوئی ہے یا صرف خیال اور اندیشہ ہی ہے؟ کہا گیا کہ پولیس موقع پر موجود ہے اور لوگوں کو منتشر کرنے میں ایک حد تک کامیاب بھی ہو گئی ہے مگر محض اس خیال سے کہ مبا وا کوئی بد معاش ملانوں کے بھڑ کانے پر کوئی شرارت کرے آپ کو اطلاع دی گئی ہے۔اس پر اس نے کہا کہ میں ابھی ابھی اپنے آدمی کو بلوا کر پولیس کو اطلاع دیتا ہوں کہ وہ انتظام کریں اور ہر طرح سے تسلی دلائی۔حضور نے کھانا تناول فرما کر نمازیں جمع کر کے پڑھا ئیں اور لوگ پھر ہوٹل کے بالائی ڈرائینگ روم میں جمع ہونے شروع ہوئے مگر صرف شرفا جن کو پولیس بھی نہ روکتی تھی اور ہوٹل والے بھی نہ منع کرتے تھے۔ان لوگوں کا ایک معقول مجمع جن کی تعداد میں کے قریب ہے اب بیٹھا ہے اور حضرت اقدس برابر مختلف مسائل پر تقریر فرما رہے ہیں۔ہوٹل والے نے پھر شور مچانا شروع کیا کہ میرا کمرہ خالی کر دو مگر ہوٹل کے مسافروں نے اس کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کر دیا ہے مگر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہم خالی نہیں بیٹھ سکتے۔کام کرنے کو - آئے ہیں لہذا دار السرور ہوٹل یا خدیو یہ ہوٹل والوں سے گفتگو کر کے فیصلہ کیا جاوے کہ معقول طبقہ