سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 76 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 76

۷۶ دیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کو قبول حق کی توفیق بخشے۔چھوٹے گورنر کا نام حقی بے یا حقی بیگ ہے۔اس نے مبشرین کے بھیجنے اور تبلیغ اسلام کا سلسلہ جاری کرنے کی خوشی سے اجازت دی اور مدد کا وعدہ بھی کیا تھا۔اس کے سوا حضور یہاں کے اعلیٰ فرنچ آفیسر سے بھی ملے تھے اور وہ ملاقات بھی اللہ کے فضل سے بہت ہی کامیاب ملاقات تھی۔دوران گفتگو میں ترجمان نے حضرت اقدس کے متعلق معمولی الفاظ استعمال کئے تو حاکم نے اس کو سختی سے ڈانٹا اور کہا کہ وہ ہندوستان کے ایک بہت بڑے پرنس ہیں اور مذہبی پیشوا ہیں اور مشہور ریفارمر ہیں ان کا نام ادب اور احترام اور عزت سے لینا اور ان کے مرتبہ اور درجہ کا خیال رکھنا۔یہ الفاظ اس نے گوفرانسیسی زبان میں کہے تھے مگر حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ ہم نے اس کی بات کو سمجھ لیا تھا کیونکہ فرانسیسی کے الفاظ اکثر انگریزی سے ملتے ہیں مثلاً پرنس کو وہ لوگ پر نسو کہتے ہیں وغیرہ۔الغرض سید نا حضرت خلیفتہ المسح والمہدی کی تشریف آوری ان علاقہ جات میں نہایت ہی کامیاب ہوئی اور سلسلہ تبلیغ کے واسطے ایک بہت آسان راہ کھل گئی ہے۔سلسلہ کا تعارف ہو گیا اور اہمیت اور عظمت قائم ہو گئی ہے اگر ایک ہزار مبلغ بھی آتا تو یہ بات پیدا ہوئی مشکل تھی جو حضور کی تشریف آوری سے پیدا ہو گئی ہے۔گو اصل غرض سفر اس سے بہت بلند و بالا ہے مگر اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ یہ بھی اس بڑے اصل ہی کی فرع و شاخ ہے۔جمعہ کا دن دمشق میں عام اجتماع کا دن ہے۔حضرت اقدس کی تشریف آوری کا اعلان اخبارات میں ہو چکا ہے۔بعض مولوی صاحبان حضور سے مل کر سلسلہ کے حالات سے آگاہ ہو چکے ہیں۔بعض ایڈیٹروں اور علماء کو حضور کے خدام گھروں پر جا کر سلسلہ کی تبلیغ کر آئے ہیں۔اکثر لوگوں سے تعلقات لین دین اور گفت و شنید بازاروں اور ہوٹلوں میں ہو چکے ہیں اور اب ہم لوگ دمشق میں معروف ہیں۔ہمارے عقائد کے متعلق عام طور پر چرچا بلکہ شور ہو چکا ہے کہ یہ لوگ کوئی نئے عقائد پیش نہیں کرتے ہیں۔ہماری خدمات اسلام اور تبلیغ واشاعت کے کام کو محبت کی نظر سے دیکھا اور شوق سے سنا جاتا ہے۔جامع امویہ میں بھی ہم لوگ عین جمعہ کی نماز سے پہلے جب کہ اذان ہو چکی تھی ہو