سفر یورپ 1924ء — Page 72
۷۲ ساتھ تھا۔آدھ گھنٹہ تک حضور مع صاحب بہادر ، جناب خان صاحب ، مولوی عبد الرحیم صاحب درد اور حضرت میاں صاحب کمرہ کے اندر بیٹھے رہے اور مختلف گفتگوئیں ہوتی رہیں۔آخر صاحب بہادر تشریف لے گئے۔جامع اموی : اور حضور تھوڑی دیر بعد جامع امویہ کی زیارت کو تشریف لے گئے۔خد ام ہمرکاب - یونیفارم میں تھے اور حضور نے عبا زیب تن کیا ہوا تھا۔( یہ عبا جو حضور قادیان سے ساتھ لائے تھے ) بازاروں میں کثرت ہجوم میں سے حضور کا گزرنا تمام لوگوں کی توجہ کو کھینچتا تھا اور اکثر لوگ تعارف چاہتے تھے۔جمعہ کا دن تھا نماز جمعہ کے واسطے دیہاتی لوگ اور ثواب کے خواہشمند نماز جمعہ کے انتظار کیلئے مسجد میں جمع تھے۔جوتے ہمارے ایک خادم نے لے لئے اور سب ننگے پاؤں مسجد میں گئے۔مسجد کے وسط میں ایک حجرہ کے اندر ایک قبر کی طرف اشارہ کر کے ایک شخص نے عرض کیا کہ حضرت یجیے نبی کی قبر ہے حضور زیارت کریں گے؟ حضور نے فرمایا کہ ہم اس بات کا اعتقاد نہیں رکھتے۔یہ بات صحیح نہیں کہ یہاں حضرت سیئے نبی کی قبر ہے وہ تو القدس میں فوت ہوئے اور وہیں ان کی قبر ہے۔بعض لوگوں نے اور ایسی ہی روایات کی طرف حضور کو متوجہ کرنا چاہا مگر حضور نے پسند نہ فرمایا اور مسجد کے اندر کے حصہ میں سے گزرتے ہوئے مغرب سے مشرق کی جانب تشریف لے گئے اور وسعت کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ وہ مسجد ہے جہاں یقیناً صحابہ نے نمازیں پڑھیں ہیں۔مسجد کی عمارت اور وسعت سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اس زمانہ میں کس قد ر لوگ نماز کے پابند تھے۔حضور نے اندازہ کرایا تو معلوم ہوا کم از کم تین سو آدمی ایک صف میں کھڑا ہو سکتا ہے اور بیس سے زیادہ صفوف مسجد کے تینوں حصوں میں کھڑی ہو سکتی ہیں یعنی چھ یا سات ہزار آدمی مسجد کے اندر نماز ادا کر سکتا ہے اور اسی قدرصحن میں گویا قریباً پندرہ ہزار آدمی ایک وقت میں نماز ادا کر سکتا ہے۔مسجد کی چھت بہت بلند اور شاندار ہے۔خوبصورت زری کا کام کیا گیا ہے۔ایک بلند بالا گنبد بہت ہی شاندار معلوم ہوتا ہے۔دو مینار ہیں ایک جانب شمال دوسرا جانب شرقی کو نہ- شمالی مینار پر اذان کہی جاتی ہے اور دوسرا بالکل بند پڑا ہے اس پر چڑھنے کی کسی کو اجازت نہیں۔کہتے ہیں کہ اس کو حضرت مسیح کے نازل ہونے کے واسطے ریزرور کھا ہوا ہے۔مسجد کا کوئی مینا ر سفید نہیں نہ شمالی نہ