سفر یورپ 1924ء — Page 63
۶۳ صاحب ان لوگوں سے ضرور ملیں۔رات کو صاحبزادہ حضرت میاں صاحب سلمہ ربہ اور حافظ صاحب جامع امویہ میں گئے اور درس قرآن دیکھا۔اذان کا نمونہ خانہ کعبہ کا سا دیکھا جہاں چاروں مصلے چار اماموں کے دیکھے۔مختلف درس قرآن ملا حظہ فرمائے اور کھانے کے وقت واپس تشریف لے آئے۔شیخ صاحب عرفانی اور چوہدری محمد شریف صاحب زاویہ ہندیہ میں گئے اور ان کے شیخ سے ملے جس نے ۷/اگست کو حضرت سے ملنے کا وعدہ کیا اور وعدہ کیا کہ وہ شام کو اپنے مجاوروں کا حال یا رقص دکھائے گا۔دمشق جیسا کہ آپ بزرگوں کو معلوم ہے بہت پرانا شہر ہے۔اس کی وسعت بھی بہت بڑی ہے۔باغات اور نہروں کی کثرت ہے۔خوبصورت صاف بھی ہے اور بعض حصے گندے اور میلے بھی ہیں۔سڑکیں خصوصیت سے خراب ہیں اور پھر کی اینٹوں کی ہیں جن پر گاڑیاں اور موٹریں بہت بُری طرح سے چلتی ہیں۔ٹرام کا بھی انتظام ہے۔روشنی بہت کم ہے۔حکومت فرانس کی ہے۔حکومت اور رعیت کی باہم مخالفت ہے۔حکومت کا سکہ اور ہے جن کو سوری بولتے ہیں اور رعیت کا سکہ اور ہے جس کو تر کی یا مصری کہتے ہیں اور وہ فلسطین اور مصر میں بھی چلتا ہے۔گورنمنٹ ترکی یا مصری سکہ نہیں لیتی اور پبلک گورنمنٹ کا سکہ نہیں لیتی باہم مخالفت ہے۔ڈاک خانہ میں جائیں تو ڈاک خانہ کے بابو لوگ مدد کرتے ہیں اور سکہ بدلوا کر بھی لے دیتے ہیں یا کبھی اس سکہ کے لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور مجبوراً بازار کے صرافوں سے لینا پڑتا ہے۔صرافوں کے دگنے ہوتے رہتے ہیں اور صرافہ زیادہ فائدہ میں ہے۔ریلوے کا وقت یا کرایہ معلوم کرنا ہو تو پولیس سے معلوم کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہر مسافر کا نام لکھا جاتا ہے۔آنے والے کا اور دمشق سے باہر جانے والے کا بھی۔ریل والوں کو کرایہ معلوم ہے نہ گاڑیوں کی آمد و رفت کا وقت یا اگر معلوم ہے تو بتاتے نہیں۔اسبغول خرید نا ہو تو لوہار کی دکان پر جانا پڑتا ہے۔حضرت اقدس کے لئے ضرورت تھی ہزار تلاش کی ہر قسم کی دکانیں دیکھیں مگر دستیاب نہ ہوا۔آخر مجبور ہو کر تنگ آکر شاید کسی الہی تصرف کے ماتحت میں نے ایک بڑھیا سے مدد مانگی اور اشاروں سے اپنی ضرورت بتائی تو اس نے ایک لوہار کی دکان کی طرف اشارہ کیا جہاں سے میری