سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 61 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 61

۶۱ قول ہے۔آپ مشکلات اور مصائب سے ہمیں ڈراتے ہیں۔مخالفت کا خوف دلاتے ہیں ہم ہرگز پرواہ نہیں کرتے خواہ ساری دنیا مخالفت پر کھڑی ہو جائے۔ایشیا، یورپ ، امریکہ اور افریقہ سب مخالف ہوں ہم حق پہنچائیں گے خواہ قتل بھی کئے جائیں۔کا بل نے آخر ہمارے آدمی قتل کئے مگر ہم نے تبلیغ نہیں چھوڑی اور نہ چھوڑیں گے۔تم زیادہ جانتے ہو یا خدا زیادہ جانتا ہے کہ مسلمانوں کے مفادات کس بات میں ہیں۔خدا نے مسلمانوں کی بہتری اور اصلاح کی غرض سے جو راہ اختیار کیا ہے بہر حال وہی درست ہے۔تم ما نو بھلا ہوگا نہ مانو ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔تم نہ مانو گے تو دیکھ لینا تمہاری آنکھوں کے سامنے ہزاروں کی تعداد میں اللہ تعالیٰ اس ملک میں جماعت دے گا اور ضرور دے گا۔تم لوگوں کی مخالفت اور دشمنی حقیقت ہی کیا رکھتی ہے وغیرہ۔الغرض بڑے ہی جوش کی تقریر تھی۔اس تقریر پر وہ مولوی عبد القادر بہت ٹھنڈا ہوا اور کہا کہ آپ کے استقلال اور اولوالعزمی کا میں اعتراف کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مبارک کرے مگر ان خیالات کو ہمارے ملک میں نہ پھیلائیں اور نہ ذکر کریں۔آخر اُٹھ کر چلا گیا اور ایک کو نہ میں دوسرے لوگوں سے باتیں کرنے لگا۔با وجو د اس بحث اور جھگڑے کے طریق ادب کو اس نے نہ چھوڑا اور یا سیدی اور سیدنا حضرت احمد قادیانی کے الفاظ سے ہی بولتا اور کلام کرتا رہا۔اس کا لہجہ سخت تھا مگر با ادب۔آخر اس نے درخواست کی کہ جامع امویہ حضور ضرور دیکھیں۔دو پٹھان طالب علم غالبا سوالی تھے آئے اور تھوڑی دیر باتیں کرتے رہے مگر حضور نے نماز کی وجہ سے عذر کیا اور نماز کے واسطے اندر تشریف لے گئے۔۵ بج چکے تھے حضور نے نمازیں جمع کر کے پڑھائیں اور ابھی فارغ ہی ہوئے تھے کہ دو صاحب ایک ایڈیٹر الفید اور ایک اور صاحب آئے اور مکان کے اندر بات کرنی چاہی۔بہت ہی احتیاط اور خوف سے باتیں کرتے تھے۔وہ لوگ دراصل گورنمنٹ کے مخالف پارٹی کے تھے اس وجہ سے ڈرتے تھے۔ڈیڑھ سال قید رہ کر رہا ہوئے تھے اور بتاتے تھے کہ ڈیڑھ سال میں کوئی آدمی وہاں سوائے قید خانہ کے کارکنوں کے نظر نہیں آیا اور گورنمنٹ کی سختی کی شکایت کرتے تھے۔بہت ہی تھوڑی باتیں ہوئی تھیں اور مسلمانوں کی غربت کا رونا روتے تھے کہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ ابھی ایک صاحب آئے تھے وہ تو کہتے ہیں کہ زکوۃ کا