سفر یورپ 1924ء — Page 509
۱۱ حضور کی زیارت کی اور عربی میں ایک ایڈریس اور نظم حضرت صاحب کے حضور پڑھی۔تقریر میں مایوسی اور اسلام کی مصیبت کا بہت ذکر تھا۔اس پر حضور نے عربی میں تقریر اور ایڈریس کا جواب دیا کہ مایوسی سے اسلام نے منع کیا ہے اگر چہ حالات ایسے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی مدد کی اور وقت پر خبر لی۔سو مبارک ہو آپ کو اہل مصر کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اب جلد انشاء اللہ آپ لوگوں کے شامل حال ہو نے والا ہے۔میں مصر کے حالات کے مطالعہ کی غرض سے یہاں آیا ہوں۔انشاء اللہ جلد تر کوئی تبلیغی نظام قائم کر دوں گا اور بہتر نتائج پیدا ہونے کی اللہ تعالیٰ سے امید کی جاتی ہے۔اہرام مصر کی سیر : اہرام مصر شہر سے ۱۰ میل کے قریب دور ہیں جنہیں دیکھنے کے لئے ہم گئے۔اہرام تو اور بھی ہیں مگر زیادہ آمد و رفت انہی کی طرف ہے۔یہ تین بڑے اہرام ہیں جو دو اور تین سو فٹ کی بلندی کے ہیں۔ایک کے اندر قبر اور کمرے نیچے سے اوپر کو جاتے ہیں اور دوسرے میں نیچے کی طرف جاتے ہیں۔میں ان تین میں سے درمیانی کے اندر گیا تھا ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب بھی ساتھ تھے۔راستہ کا پہلا حصہ بہت ہی صاف پتھروں کا بنا ہوا تھا جو اوپر سے نیچے کو ڈھلوان تھا۔انسان اگر پاؤں پیار کر بیٹھ جائے تو خود بخود پھلتا پھسلتا نیچے جا سکتا تھا مگر ہم کھڑے ہو کر دونوں دیواروں کو ہاتھ لگائے جسم کو سنبھالے اترے دو دلیلی ( راہنما ) موم بتی جلائے ہمارے ساتھ تھے۔کوئی پچاس فٹ گہرائی تک جا کر ایک غار آئی جس میں کود کر ائتر نا پڑا۔غار کی گہرائی 4 یاے فٹ تک تھی۔اس غار سے آگے کا راستہ بالکل نا ہموار تھا جو قبر کے اندر کا سامان وغیرہ کھود لینے کی وجہ سے پتھر مٹی اور چونہ سے پٹا پڑا تھا اور کسی نے صاف نہ کیا تھا۔بعض بعض جگہ میں پیٹ کے بل گھسٹتے گھسٹتے جانا پڑا۔کچھ دور جا کر پھر کھڑے ہو کر نکلنے کا راستہ آ گیا حتی کہ ہم ایک ہال میں جا پہنچے جو وضع دار بنا ہوا ہے۔اس کے اندر ایک طرف کو ایک پتھر کی کھدی ہوئی خالی قبر ہے۔معلوم ہوتا ہے اس میں جنازہ تھا اور باقی کمرہ میں لاکھوں روپیہ کا زر و جواہر اور ضروریات زندگی رکھی ہوئی تھیں جواب نکال لی گئی ہیں۔یہ بڑا کمرہ اور راستہ کا ایک حصہ پتھر کھود کر بنایا گیا ہے۔کھدائی کی محنت اور صنعت واقعی حیرت انگیز ہے۔اس بڑے کمرہ کے بعد ہم ایک دوسرے کمرے کی طرف لے جائے گئے جو پہلے کمرہ سے چھوٹا مگر وہ بھی بہت وسیع تھا۔اس کے اندر قبر کھدی ہوئی نہ تھی بلکہ صاف کمرہ تھا۔دونوں کمروں کو ہم نے آتشبازی کی تار جلا کر خوب اچھی تیز روشنی میں دیکھا اور واپس آگئے۔