سفر یورپ 1924ء — Page 493
۴۹۳ باقی امور کے متعلق :۔بعض معاملات کے شائع کر دینے میں غلطی کی ہے مثلاً تبلیغ افغانستان کا معاملہ، زمیندار نے اس پر مضمون لکھا۔اخبارات تمام لوگوں کے ہاتھ میں جاتے ہیں ہماری ساری سکیم گویا بر باد ہوگئی ہے اب کوئی نئی سکیم سوچنی پڑے گی۔اب آئندہ میں کوئی نئی سکیم نہ بتا سکتا ہوں نہ ہی اس کا شائع و ظاہر کرنا مناسب ہے۔سرحد کی جماعت بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔کا بل پر اس کا بڑا اثر ہو سکتا ہے مگر اس کو ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اب میں تیار ہوں کہ ظاہر کروں کیونکہ اس سے دشمن واقف ہو کر ہوشیار و چوکنا ہو جاتا ہے اور ہمارے نظام سے واقف ہوکر اس کا توڑ سوچنے میں لگ جاتا ہے اور اس طرح اصل کام کو نقصان پہنچا سکتا ہے وغیرہ۔اس کے بعد نماز - آگرہ سے ایک ایڈریس صوفی محمد ابراہیم صاحب بی ایس سی کے والد صاحب کے ہاتھ آیا ہے مگر میں نے ان کو مشورہ دیا ہے کہ چونکہ حضرت اقدس آگرہ تشریف لے جاتے ہیں لہذا بہتر ہوگا کہ وہیں یہ ایڈریس پڑھا جائے۔چنانچہ انہوں نے بعض اور دوستوں کے مشورہ سے یہی فیصلہ کیا ہے کہ وہ آگرہ ہی جا کر پیش کریں گے۔حضور نے کھانے کے بعد معاً ہی دو ایڈریسوں کا جواب دیا۔فارغ ہو کر کمرے میں تشریف لے گئے۔طبیعت بہت کمزور ہو گئی تھی کرسی پر لیٹ گئے۔بہت زور زور سے تین آدمیوں ( چوہدری علی محمد صاحب، مولوی نیک محمد صاحب اور خاکسار قادیانی) نے دبایا تب جا کر طبیعت سنبھلی مگر ساتھ ہی سو گئے اور آدھ گھنٹہ کے قریب آرام فرما کر اُٹھے اور نمازیں پڑھائیں۔نمازوں کے بعد مجھے ایک کام کے لئے بھیجا اور خود ایک پادری صاحب سے جو ایک زمانہ پہلے حضرت اقدس سے قادیان میں ملاقات کر چکے ہیں ملاقات کی اور چائے کے لئے اوری اینٹ ہوٹل میں تشریف لے گئے۔یہ دعوت چائے ڈاکٹر فتح الدین صاحب پشاوری کی طرف سے تھی۔دعوت کے بعد ڈاکٹر صاحب نے حضور کا اور دوستوں کا چائے پر آنے کا شکر یہ ادا کیا اور حضرت اقدس سے دعا کی درخواست کی اور ذکر کیا کہ حضور گویا اس سفر میں دو پیشگوئیوں کو پورا کرنے کی غرض سے تشریف لے گئے تھے جن میں ایک منارہ مشرقی دمشق کے پاس دوفرشتوں کے کندھوں پر اُترنے والی اور دوسری مغرب سے طلوع آفتاب والی تھی۔سوحضور کے جانے سے