سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 483 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 483

۴۸۳ ہوسکتی۔نبی کا کمال یہ ہے کہ جو نعمت اس کو عطا ہوئی ہے وہ بطور ورثہ وہ اپنے ماننے والوں کو بھی دے سکتا ہے۔نبوت کو روز روشن کی طرح ثابت کرنے والی چیز یہ ہے کہ وہ نبوت کے کمالات کو ورثہ کے طور دے سکے فرمایا کہ ایک جہاز کا انگریز جس کو مجھ سے کلام کر کے محبت پیدا ہو گئی تھی اس نے سوال کیا کہ کیا آپ جیسا معقول آدمی بھی الہام کا قائل ہے؟ تب میں نے اس سے کہا کہ حضرت مرزا صاحب نے صرف یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ان کو الہام ہوتا ہے بلکہ ان کا یہ دعوی تھا اور وہ کہتے ہیں کہ میرے ساتھ آؤ تا تم کو بھی الہام ہو۔جو آدمی سورج کی شہادت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے ساتھ آؤ میں تم کو بھی سورج دکھا دوں اور وہ دکھا بھی دے تو پھر کون مجنون ہے کہ اس سورج سے انکار کرے؟ چنانچہ میرے اس بیان سے اس انگریز کا چہرہ زرد پڑ گیا اور کہنے لگا کہ واقعی یہ تو سوچنے والی بات ہے۔ایک کمزور آدمی اور گمنام جس کو رات کی نیند میں کوئی رؤیا ہوتی ہے اور ایک آواز آتی ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا۔خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اگر وہ خدا پر پورا بھروسہ نہیں رکھتا اور اگر وہ مجنون نہیں تو ہنسی آ جاوے گی یا وہ حیران ہوگا کہ یہ کیسی آواز ہے۔اس کے واسطے ایسی آواز کو دنیا میں شائع کرنا بھلا کوئی معمولی سی بات ہے ؟ ایک غریب اور گاؤں کا رہنے والا انسان جس کا حال یہ ہو کہ گاؤں میں اس کو کوئی جانتا نہیں۔محلے تک میں کوئی پہنچانتا نہیں اگر اس طرح کا کسمپرس آدمی ایسا الہام شائع کرے تو وہ دو باتوں سے خالی نہیں ہوگا یعنی یا تو وہ مجنون ہوگا جس میں وہم کو بھی میں شامل کرتا ہوں یا پھر پورے وثوق ، یقین اور کبھی نہ ملنے والے ایمان والا آدمی ہی اس کو شائع کر سکتا ہے۔اس کے سوا اور کوئی ایسے الہام کو دنیا کے سامنے نہیں پیش کر سکتا۔جس طرح ایک قابل جرنیل کئی لاکھ سپا ہی تو پوں سمیت اپنی فوج کو کسی گاؤں سے باہر کھڑا کر کے آیا ہو اور گاؤں سے کوئی بات منوائے اور کہے کہ اگر مخالفت کرو گے تو میں تمہاری خبر لوں گا۔تباہ کر دوں گا۔اس جرنیل سے بھی زیادہ یقین اور وثوق سے نبی کھڑا ہوتا ہے اور اس یقین ہی میں اسکی فتح و کامیابی کا راز مضمر ہے۔