سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 482 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 482

۴۸۲ دیکھوں کہ قوم میں کام کے سنبھالنے والے آدمی موجود نہیں تو یہ امور میرے لئے کیسے حوصلہ شکن ہوں گے۔اگر ایسے آدمی موجود ہوں اور پیدا ہوتے رہنے کا یقین ہو تو مجھے کیسی خوشی ہوگی اور اطمینان کہ کام کو سنبھال لیں گے۔پس اپنے دلوں کو ٹو لو اور غور کرو کہ دل کیا کہتے ہیں کیونکہ دراصل پہلے کسی کام کی خواہش پیدا ہوتی ہے پھر تربیت پیدا ہوتی ہے اور پھر کام میں ترقی کی روح آ جاتی ہے۔یہ ایک طبعی ترتیب ہے اس کو مدنظر رکھو۔حضرت مسیح موعود کی وفات ایک بیج تھا جس کا ذکر کلکتہ کی جماعت کے ایڈریس میں ہے اور کہ حضور کی موت پر میں نے حضرت اقدس کے جنازہ کے سرہانے کھڑے ہو کر عہد کیا تھا کہ خدایا میں تیری ذات کی قسم کھا تا ہوں کہ میں کوشش کروں گا اور اس سچائی کی ہمیشہ خدمت کروں گا۔یہ بات اس وقت گو عقلی طور پر نہایت ہی بنسی کی بات تھی کیونکہ بڑے بڑے لوگ اس وقت موجود تھے۔علم والے بھی تھے۔روحانی سامان والے بھی تھے۔تجربہ کار اور بہت بڑے دینوی سامانوں والے بھی تھے حتی کہ میرے استاد بھی ان میں موجود تھے۔ایسے وقت میں میرے دل میں ایسا خیال بظاہر محض ہنسی تھا مگر عقد ہمت کرتے وقت انسان افراد کو نہیں دیکھا کرتا کیونکہ انسان بحیثیت انسانیت میرے سامنے تھے اور میں نے کہا اور عہد کیا کہ اگر تمام دنیا بھی مرتد ہو جائے اور مجھے چھوڑ دے تو بھی میں نہ چھوڑوں گا تجھے۔دراصل میں انسانیت سے بالا تھا اس وقت اور میری نظر زمین کی بجائے آسمان پر تھی۔جب وہ عزم ، نیت اور ارادہ خدا نے میرے دل میں پیدا کیا اور اسی نے میری حفاظت اور میری مد دو یاوری کی وہی پہلا پیج تھا۔پس کم از کم انسان اور مومن انسان کو ایسا بیج ضرور اپنے دل میں پیدا کرنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر تو کوئی چیز ہے ہی نہیں مگر میں تو یہ سمجھ ہی نہیں سکتا کہ کوئی ابتلا انسان کو ایمان سے پھیر سکتا ہے۔دراصل یہ بھی ادنی خیال ہے کہ اگر ساری دنیا اس صداقت کو چھوڑ دے تو میں اس کو نہ چھوڑوں گا اور یہ بھی ایک کمزوری ہے۔چاہئے یہ کہ انسان یہ کہے کہ میں اس صداقت کو قائم کروں گا اور ضرور قائم کر کے چھوڑوں گا۔نبی دنیا میں اس لیے نہیں آتا کہ اپنی شوکت اور جلال کو ظاہر کرے کیونکہ اس میں اس خاص شخص کی عظمت پائی جاتی ہے۔” خالی اس بات سے خدا کی ہستی اور صداقت ثابت نہیں