سفر یورپ 1924ء — Page 458
۴۵۸ اجازت ہو گئی۔راستہ کھل گیا۔اوپر کے نیچے اور نیچے کے لوگ اوپر کو آنے لگے۔تجار اور پھیری والوں ، مزدوروں اور حمالوں سے جہاز بھر گیا ہے مگر ہماری توجہ اب ہندوستانی ڈاک نے اپنی طرف کھینچ لی ہے جو حضور کی خدمت میں تختہ جہاز پر ہی آن پہنچی ہے۔ماشاء اللہ ڈاک کیا ہے خاصا پوسٹ آفس کھل گیا ہے۔لوگ بھی حیران ہیں مسافر بھی گھور گھور کر دیکھنے لگے ہیں۔انگریز بھی دُزدیدہ نگاہوں سے دیکھتے اور دل ہی دل میں تعجب کرتے نظر آتے ہیں۔چشم بد دور۔نظر بد پرے۔معلوم ہوتا ہے کہ دوستوں نے بھی اس آخری سٹیشن سے فائدہ اُٹھانے کے لئے دل کھول کھول کر لکھا ہے۔اچھا اللہ کریم دلوں کے حالات سے واقف ، نیتوں کا عالم ، دعاؤں کا سننے والا ، قلوب کے اسرار سے واقف سب کی سنے اور قبول کرے۔مرادیں برلائے اور دین ودنیا میں سرخر و کر کے سب سے ایسا خوش ہو کہ جس کے بعد کوئی ناراضگی نہ ہو آمین۔حضور مع حافظ صاحب اور نیز صاحب پوسٹ آفس تک تشریف لے گئے ہیں۔چوہدری علی محمد صاحب، مصری صاحب اور رحمدین کو ضروریات کی خرید کے لئے بھیجا گیا ہے۔میرا دل کچھ اداس ہے توجہ بٹی ہوئی ہے میں عمد ا نہیں گیا تا کہ اس تنہائی سے فائدہ اُٹھا سکوں۔سو اللہ کے فضل سے اس خلوت میں جلوت نصیب ہے۔دوستوں اور بزرگوں کو یاد کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ سب کے ساتھ ہو آمین۔جہاز میں مسافر آئے اور کثرت سے آئے۔ہیں بھی ڈیک کے اور آئے بھی ہمارے ہی چبوترہ کے لئے ہیں۔سامان اتنا ہے کہ دیکھ کر گھبراہٹ ہوتی ہے۔دھم دھڑام ہو رہی ہے۔ان کو آتے ہی اطلاع تو دے دی گئی ہے کہ یہاں جگہ نہیں ابھی سے دوسری جگہ کا انتظام کر لیں مگر وہ ابھی ہماری سمجھتے نہیں۔ہے بجے کے قریب حضرت جہاز سے اتر کر عدن کی بستی کو گئے تھے اب شام ہو چکی اندھیرا ہوگیا ہے۔ساڑھے سات بج چکے ہیں مگر ابھی تک تشریف نہیں لائے۔کھانے کی گھنٹی ایک ہوئی دوسری بھی اور کھانا ہو بھی رہا ہے مگر حضور نہیں تشریف لائے۔بجے کے قریب حضور واپس تشریف لائے۔سامان خرید نے والے اصحاب پہلے آگئے مگر حضور کو ان کی فکر تھی اور آتے ہی اسٹنٹ کیپٹن کو کہہ رہے ہیں کہ ہمارے تین آدمی ابھی باہر ہیں وہ