سفر یورپ 1924ء — Page 449
۴۴۹ جہاز روانہ ہو گیا۔کشتی بندرگاہ کو چل دی اور دونوں میں فاصلہ بڑھتا گیا مگر حضور کشتی کی طرف ٹکٹکی لگائے رہے۔پہلے اسی جگہ جہاں سے رخصت کیا تھا پھر بالائی منزل کے اوپر جا کر اور اتنی دیر تک کھڑے دعائیں کرتے رہے جب تک کہ وہ کشتی نظر سے بالکل اوجھل ہو کر کنارے بھی پہنچ چکی بلکہ شہر کے مکانات بھی نظروں سے غائب ہو گئے تھے۔غرض ان دعاؤں کے ساتھ سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے چھوٹے بھائی کو محض خدا کی رضا کے حصول کے لئے اور محض خدمت ( دین ) کی نیت کے واسطے رخصت کر کے الوداع کہا۔اس رقت آمیز منظر اور پُر درد واقعہ کو میں زیادہ تفصیل سے نہیں لکھ سکتا۔اسی پر بس کر کے سب دوستوں اور بزرگوں سے التماس کرتا ہوں کہ تمام احباب حضرت میاں صاحب کے لئے ان کے مقاصد میں کامیابی کی دعائیں کرتے رہیں اور ان کی تائید و نصرت کے لئے اللہ کریم سے دست بدعا ر ہیں۔اوپر سے آ کر حضور نے کھانا کھایا۔نہ معلوم کیا کھایا اور کیا نہ کھایا۔نمازیں پڑھائیں مگر معلوم ہوتا تھا اور نظر آتا تھا کہ حضور کے دل پر اس جدائی کا کیا اثر ہے۔کھانے کے متعلق میں نے اس وجہ سے ایسا خیال کیا ہے کہ حضور نے عصر کی نماز کے بعد فرمایا ” بھائی جی کچھ انگور ہو تو لاؤ“۔اس سے میں نے اندازہ کیا کہ حضور نے غالباً میز پر کھانا برائے نام ہی کھایا ہو گا۔شام اور عشاء کی نمازیں حضور نے خود ہی جمع کر کے پڑھائیں۔آج چونکہ حضور کو مصر سے نئی کتب عربی ملی ہیں حضور ان کے مطالعہ میں بہت ہی مصروف ہیں۔نماز سے پہلے بھی اور بعد بھی انہی کے مطالعہ میں مصروف ہیں مگر طبیعت حضور کی کچھ مضمحل بھی نظر آتی ہے۔کھانے کے بعد حضور بلا ناغہ ہمارے چبوترہ کے پاس تشریف لا کر بیٹھا یا ٹہلا کرتے تھے مگر آج تشریف نہیں لائے۔چوہدری علی محمد صاحب چلتے پھرتے ہیں البتہ کھانسنے اور لیٹنے سے درد ہوتا ہے۔۹/ نومبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز میں حضور تشریف لائے اور نماز پڑھائی مگر آج کی نما ز خصوصیت سے لمبی تھی۔قرآت میں غیر معمولی درد، سوز اور گداز تھا اور تلاوت میں بہت آہستگی۔سجدے بھی لمبے تھے۔دوسری رکعت کے رکوع کے بعد حضور نے کھڑے ہو کر بھی دعائیں کیں اور دوسری رکعت کے سجدات پہلی سے بھی زیادہ لمبے تھے۔نماز سے فارغ ہو کر حضور بیٹھ گئے اور فرمایا کہ آج تو