سفر یورپ 1924ء — Page 450
۴۵۰ رات بھر بخار رہا ہے۔تھرما میٹر لگایا مگر معلوم ہوا کہ اب بخار نہیں۔حضور لیٹے رہے۔پاؤں چوہدری علی محمد صاحب دباتے رہے۔ناشتہ پیش کیا تھوڑی دیر رکھا رہا۔چوہدری فتح محمد خان صاحب نے عرض کیا حضور ناشتہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔فرمایا میں تو کچھ نہیں کھاؤں گا چنانچہ آج ناشتہ بھی نہیں کیا۔ڈیڑھ گھنٹہ کے قریب حضور لیٹے لیٹے باتیں کرتے رہے۔ان دنوں پھر وہی عربی یا انگریزی میں گفتگو کا التزام ہو گیا ہے۔کھانا حضور نے میز پر کھایا اور آج چونکہ مدینہ منورہ کے مقابل پر ہمارا جہاز ایک بجے کے بعد جا رہا ہے۔لہذا حضور نماز کے واسطے جلدی تشریف لائے۔نماز کا رخ بھی آج تبدیل کیا گیا اور حضور نے ظہر اور عصر کی نمازیں بھی خاص دعاؤں کے ساتھ پڑھا ئیں اور کثرت سے دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ ان دعاؤں کو تمام جماعت اور سارے ہی خدام کے لئے قبول فرمائے آمین۔نمازوں کے بعد بیٹھ گئے اور مختلف اذکار ہوتے رہے۔شیخ صاحب مصری نے بعض خطوط حضور کے سامنے جواب کے لئے پیش کئے۔بعض جماعتوں کی طرف سے درخواست دعوت تھی۔بعض نے اجازت چاہی تھی کہ ان کو معانقہ کرنے کی اجازت دی جاوے۔دعوتوں کے متعلق حضور نے فرمایا کہ قادیان سے فیصلہ کرانا چاہئے اور معانقہ کے متعلق فرمایا کہ اگر ایک کو اجازت دے دی جائے تو باقی بھی کرنے لگیں گے اس صورت میں میرا کیا حال ہوگا ؟ اب حضور او پر تشریف لے گئے ہیں اور اب تک یہی خیال ہے کہ ۱۹ ء کو بمبئی سے روانگی ہوگی۔ہاں میں عرض کرنا بھول گیا کل حضور نے قادیان تار بھی دیا ہے۔تار سے پہلے جہاز پر ہی مشورہ بھی کیا تھا اور فرمایا تھا کہ میرا تو خیال یہی ہے کہ جس قدر جلدی ہو سکے قادیان جانا چاہئے۔خدا کی طرف سے اگر کوئی روک پیدا ہو کر ہم رُک جائیں اور ۲۴ رکو قادیان پہنچیں تو یہ اور بات ہے ور نہ اب جلسہ قریب آ رہا ہے اور دو تین دن بھی ضائع کرنے کا موقع نہیں۔بہتر یہی ہے کہ جلدی قادیان چلے جائیں چنانچہ حضور نے تار گھر جا کر تار دیا اور خود ہی لکھا خود ہی دیا نہ کسی نے پوچھا اور نہ کسی کو بتایا۔مکرمی جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے عرض کیا حضور کا ان دنوں پرائیویٹ