سفر یورپ 1924ء — Page 411
۴۱۱ ہے اور شاید ایک جگہ بھی اس کے اندر باقی نہیں۔ہم تمام گاڑی کو دیکھتے ہوئے آگے نکل گئے مگر آگے جا کر پھر لوٹے کیونکہ اگلے حصہ میں صرف فرسٹ اور سیکنڈ کلاس کی گاڑی تھی۔ہماری سیٹیں ریز رو تھیں مگر ہمارے لیٹ ہو جانے کی وجہ سے رُک چکی تھیں۔گارڈ ٹرین ، کلرک اور پورٹر تمام تر مایوس تھے کہ اب یہ لوگ نہ چڑھ سکیں گے مگر خدا نے رہبری کی۔ہمت دی اور توفیق بخشی۔لوٹ کر تھرڈ کلاس گاڑی کے سامنے پہنچتے ہی سب دوست پل پڑے۔کچھ گاڑی کے اندر جا گھسے اور کچھ باہر سے سامان دیتے گئے۔دو چار منٹ کے اندر سامان اندر پہنچ گیا اور ہماری مشکل خدا نے حل فرمائی۔گاڑی چل پڑی۔خطرہ ہوا کہ شاید بک شدہ اور رجسٹر ڈ سامان رہ گیا ہو۔نیر صاحب کو دس پونڈ دے کر حکم دیا گیا کہ اتر جائیں اور سامان کے ساتھ کل آجائیں۔وہ اترے ہی تھے کہ معلوم ہوا کہ ادھر ہم نے سامان اندر پھینکا اُدھر پورٹروں نے رجسٹر ڈ سامان بریک میں پٹکا اور گارڈ کے چیختے پکارتے سامان اندر پہنچا ہی دیا اور اس طرح سے خدا کے فضل سے وہ کام ہو گیا جس کی آج قطعاً اُمید نہ تھی۔بٹالہ اسٹیشن سے آتے ہوئے بھی اسی قسم کا نظارہ تھا مگر وہ صرف سواروں کے متعلق تھا سامان پہلے پہنچ چکا تھا بلکہ گاڑی کے اندر بھی رکھا جا چکا تھا مگر یہاں تمام مشکلات تھے سواروں کے لئے بھی اور سامان کے واسطے بھی۔غرض خدا کے فضل سے ایسے سامان پیدا ہوئے ایسی جرات اور دلیری ملی اور اس طرح سب دوستوں نے ہاتھوں ہاتھ کام کیا کہ گویا ایک ایک کے ساتھ دس دس فرشتے کام میں مدد کرنے کو شامل و شریک ہو گئے تھے۔مگر ایک امر قابل افسوس ہوا کہ دوستوں سے روانگی کے وقت مل بھی نہ سکے۔خلیفہ تقی الدین صاحب اور ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب بڑی محبت سے ساتھ آئے ہوئے تھے۔مسٹر خالد شیلڈرک اور مس چارلس ٹائپسٹ سے بھی سلام سلام نہ ہو سکا اور افراتفری اور دوڑا دوڑ میں نو بج کر میں منٹ پر پیرس کے اس اسٹیشن سے سید نا محمود ایدہ اللہ تعالیٰ کی گاڑی سوئے کوچہ ہائے قادیان روانہ ہوئی اور جلد جلد سفر کو طے کرتی ہوئی صبح کے سات بجے کے بعد ویلو رب کے سٹیشن پر پہنچی۔جب گاڑی پیرس کے سٹیشن سے چل پڑی اور ہم لوگ سامان کو جو اِدھر اُدھر بکھرا ہوا تھا کوئی گھڑی کسی کمرے میں کوئی بیکس کسی کمپارٹمنٹ میں کوئی ٹرنک کہیں اور کوئی سوٹ کیس کہیں تھا ان