سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 410 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 410

۴۱۰ چائے کے بعد حضور نے شیخ صاحب مصری کی معرفت ان لوگوں کا شکر یہ ادا کیا اور دعائے برکت دی اور ان کو ان کے اس کارخیر میں ساعی ہونے پر اللہ سے اجر اور دنیا میں نام پانے اور عزت سے یاد کئے جانے پر مبارک باد دی اور گورنمنٹ فرانس کا بھی اس کا ثواب کا شکر یہ ادا کیا۔اس مضمون شکر یہ کو شیخ صاحب نے عربی الفاظ میں ادا کیا کیونکہ سامعین کا اکثر حصہ مراکش اور عربی بولنے اور سمجھنے والا تھا۔حضور وہاں سے رخصت ہوئے اور افسر تعمیر نے مشایعت کی۔حضور نے ایک سوفرانک آج بھی کارکنان ( البيت ) کو عطا فرمایا جنہوں نے چائے وغیرہ سے خدمت کی تھی۔بارش ابھی جاری تھی چنانچہ باران رحمت ہی میں حضرت اقدس موٹروں تک تشریف لائے اور ہوٹل میں پہنچے۔حضورا اپنے سامان کی باندھ سنوار میں مشغول ہوئے اور خدام کو مختلف کاموں کا حکم دیا۔بعض تیاری سامان میں بعض تیاری زادِ راہ میں بعض بار برداری کے سامان میں اور بعض دیگر ضروریات میں مصروف ہوئے حتی کہ آٹھ بجے شام دو بڑی موٹریں سامان اور سواروں سے لد کر تیار ہو گئی ہیں مگر حضورا بھی فارغ نہیں ہوئے اور چند ساتھی بھی حضور کے ہمرکاب مصروف کار ہیں۔ہم لوگ ساڑھے آٹھ بجے گیرڈی لیون (Gere De Layon) ریلوے سٹیشن پر پہنچے۔قلی اور بابو۔مسافر اور کلرک کوئی بھی ہماری نہ سمجھ سکتا تھا نہ کوئی مدد کر سکتا تھا۔ہم ان سے اجنبی اور وہ لوگ ہم کو تماشا بنائے ہوئے تھے۔ہمارے گرد جمع ہو جاتے ، بات کریں تو نہ سمجھتے نہ جواب دے سکتے تھے۔وقت تنگ ہو رہا تھا کام زیادہ تھا۔گھبراہٹ بڑھ رہی تھی۔پونے نو بج گئے۔ہمارا کوئی کام نہ ہوا۔سامان ریڈیوں پر لاد کر قلی بھی بھاگ گئے اور پھر نہ آئے۔آخر نو بھی بچ گئے۔صرف ہیں منٹ باقی تھے ہم نے سمجھا کہ اس گاڑی سے نہ جاسکیں گے۔آخر خدا خدا کر کے 9 بجے کے بعد حضور کی موٹر آئی تب جا کر جان میں جان پڑی۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور مسٹر خالد شیلڈرک اِدھر اُدھر دوڑے بھاگے۔مارا مار کی۔سامان وزن کرایا۔رجسٹرڈ کرایا - بک کرایا کچھ ساتھ رکھنے کو الگ رکھا۔پانچ منٹ رہتے تھے کہ پلیٹ فارم نمبر H (ایچ) پر پہنچے جہاں گاڑی روانہ ہونے کو تیار کھڑی تھی۔ہمیں دوڑتے بھاگتے دیکھ کر لوگ تماشا دیکھنے جمع ہو گئے۔گاڑی کے اندر جو لوگ تھے وہ بھی کھڑکیوں کے آگے زیارت کو ہماری جمع ہو گئے اور ہمیں ایسا معلوم ہونے لگا کہ گاڑی بالکل بھر پور