سفر یورپ 1924ء — Page 409
۴۰۹ حافظ صاحب کو آ جانے دو وہی آ کر اذان کہیں گے۔حافظ صاحب کا موٹر بارش یا راستہ کی بے ترتیبی کی وجہ سے ذرا پیچھے رہ گیا تھا۔وہ چند منٹ بعد تشریف لائے اور حضرت اقدس کے حکم کے مطابق بلند آواز اور خوش الحانی سے اذان کہی۔لہجہ میں کسی قدر عربی رنگ پیدا کیا اور اذان نہایت مؤثر ہوئی۔اذان کے وقت تمام لوگ بالکل خاموش تھے۔ہم بیٹھے اور مقامی لوگ بت بنے کھڑے تھے اور کچھ ایسا سماں تھا کہ جیسے کسی غیبی ندا نے صور اسرافیل اور عہد ازل کی یاد تازہ کر دی ہو جس پر ہر ہر روح لبیک اللھم لبیک کہتی معلوم دیتی تھی۔آج کی اذان (البیت ) پیرس میں پہلی اذان اور آج کی نماز اس ( البیت ) میں پہلی نماز تھی جوسید نا محمود موعود نے کہلوائی اور پڑھائی۔اذان کے معاً بعد دعائے اذان سے فارغ ہو کر حضور قبلہ رو محراب (البیت ) میں کھڑے ہوئے۔تکبیر اولیٰ کہی گئی اور نماز قائم ہوئی۔حضور نے یکے بعد دیگرے دونوں نمازیں جمع کرا کے پڑھا ئیں۔خدام ذیل شریک نماز تھے۔(۱) عبدالرحمن قادیانی (۲) چوہدری ظفر اللہ خان صاحب (۳) ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب (۴) چوہدری علی محمد صاحب (۵) مولوی عبدالرحیم صاحب درد (۶) ملک نواب دین صاحب (۷) شیلڈرک خالد صاحب (۸) مولوی مصباح الدین صاحب (۹) خلیفہ تقی الدین صاحب (۱۰) حافظ روشن علی صاحب (۱۱) شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی (۱۲) ذوالفقار علی خان صاحب (۱۳) حضرت میاں شریف احمد صاحب (۱۴) شیخ عبدالرحمن صاحب مصری (۱۵) چوہدری فتح محمد خان صاحب (۱۶) چوہدری محمد شریف صاحب (۱۷) مولوی عبدالرحیم صاحب نیر (۱۸) ملک ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب۔ان سترہ بزرگوں اور خادم قادیانی نے سیدنا حضرت اقدس محمود ایدہ اللہ الود و د امام و مقتدا کی اقتدا میں یہ دو نمازیں ( البيت ) پیرس میں ادا کیں۔نماز چونکہ ساڑھے تین بجے کھڑی ہوئی تھی اور اب وقت شام کا قریب تھا اور روانگی کی تیاری کرنی باقی تھی لہذا حضور نماز کے بعد جلدی اُٹھے مگر لوگوں نے ذرا ٹھہرنے کی درخواست کی اور چائے اور بسکٹ پیش کئے جن کو حضور نے قبول فرمایا۔چائے نہیں قہوہ تھا قہوہ بھی غالباً سبز ریحان کی پنی کا بنایا گیا تھا جو شیشے کے گلاسوں اور سیاہ مٹی کی پیالیوں میں ایک ایک دو دو دور دئیے گئے جو واقعی محبت بھرے دلوں اور حقیقتا دلی اخلاص اور سچے پیار سے دیئے گئے تھے۔