سفر یورپ 1924ء — Page 393
۳۹۳ شرمندہ کرنے ہی کی غرض سے کی تھی ورنہ حقیقت حال مجھے معلوم ہی تھی۔جب مجھ سے لوگوں نے پوچھا کہ تم نے کیوں شور مچانا شروع کیا تب میں نے بتایا کہ اس نے جس شخص کی روح کا نام لیا تھا وہ بانی اسلام ہیں اور ہمیشہ دنیا میں کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سکھاتے رہے ہیں اور پانچ وقت نماز کی تاکید کرتے رہے ہیں۔اگر یہ ان کی روح ہوتی تو بھلا وہ جواب نہ دے سکتی خاموش رہتی۔اس شخص کی روح جس نے ساری عمر کلمہ توحید اور سورۃ فاتحہ کی اشاعت و تلقین میں بسر کیا ہو کیونکر نہ جواب دے سکتی ؟ لوگ بات سمجھ گئے اور ان سے نفرت کرنے لگے۔ڈاکٹر لیون نے حضرت اقدس کے حضور اس بات پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ لوگ سپر چوازم کے نام سے اسلام کو بدنام کرتے ہیں اور اس فرقہ کی باتوں کو لے کر قرآن قرآن کہتے اور اسلام کی تعلیم کے خلاف باتیں بناتے اور اسلام کو بگاڑتے ہیں اور کسی خاص جماعت مدعی تبلیغ کا نام بھی لیا ( پیغامیوں کا ) اور نفرت کا اظہار کیا۔ڈاکٹر لیون نے حضرت اقدس کے پاس بیٹھے ہوئے اپنی بیوی کے سامنے اس بات پر بھی اظہار نفرت کیا کہ ترکوں نے کیوں پر دہ ترک کر دیا ہے۔یہ اسلام کی ایک بڑی بھاری خصوصیت تھی اس کو ترک کر دینے میں ان لوگوں نے غلطی کی ہے۔بیوی یورپین ہے۔اس کے سامنے اس قسم کے خیالات کا اظہار بڑی ہمت ہی کا کام ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ جس قدر لوگ جو شیلے مسلمان یورپ میں سنے گئے ہیں وہ سب اسی شخص کی محنت اور کوشش کا نتیجہ ہیں۔بہت بڑی جماعت اس شخص نے پیدا کر لی تھی حتی کہ گورنمنٹ تک کو خطرہ ہو گیا تھا کہ یہاں کوئی بڑا بھاری انقلاب نہ پیدا کر دیں۔کوئی مقدمات کا سلسلہ بنا کر اس کو کمزور کر دیا گیا اور اس کی جماعت کو توڑ دیا گیا تھا۔حضرت کے دائیں طرف جو ریورنڈ بیٹھے تھے ان کی سیکرٹری نے حضرت اقدس سے سوال کیا کہ آپ کو اس سفر سے کیا بڑا فائدہ پہنچا ؟ حضور نے فرمایا کہ انسان کے سامنے دن رات ہزاروں قسم کے حالات اور خیالات آتے رہتے ہیں مگر سب کے متعلق اس کے دل میں تحقیقات کا خیال پیدا نہیں ہوتا۔تحقیقات کا خیال انسان کے دل میں تب ہی پیدا ہوتا ہے جب وہ کسی چیز کو خصوصیت اور اہمیت کے درجہ تک پہنچا ہوا پاتا ہے۔