سفر یورپ 1924ء — Page 383
۳۸۳ اور فرمایا ایک شخص کا ریچھ دوست تھا۔اس آدمی کی ماں بیمار ہوئی۔اس کو دوائی وغیرہ کے لئے باہر جانا پڑا تو ریچھ کو ماں کے پاس بٹھا گیا کہ مکھیاں نہ ستائیں پنکھا ہلاتے رہنا۔مکھیاں بار بار آتی تھیں وہ ہٹا تا تھا۔بڑی محبت اور اخلاص سے دوست کی ماں کی خدمت کرتا رہا مگر مکھی کی عادت ہے کہ بار بار آتی ہے۔ہٹاؤ پھر آ جاتی ہے۔ریچھ نے تنگ آ کر سوچا کہ مکھیاں تو باز نہیں آتیں میں ان کو جان سے ہی مار دوں۔ایک بھاری پتھر اُٹھا لایا اور تاک کر مکھی کے اوپر مارا جس سے مکھی اور اس کے دوست کی ماں دونوں مر گئیں۔یہ مثال در اصل اخلاص ہی کے لئے وضع کی گئی ہے اور نہایت ہی لطیف سبق اس سے ملتا ہے کہ محض اخلاص تعلیم ، تربیت اور مال کا قائمقام نہیں ہو سکتا۔ریچھ میں اخلاص تو تھا مگر تعلیم کے نہ ہونے کی وجہ سے اس نے اپنے دوست کی ماں کا سر پتھر سے کچل دیا - فتدبروایا اولی الابصار و الوفاء- لنڈن میں کیا یورپ بھر میں یہ قاعدہ ہے کہ مرد کمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔کما کر بیوی کے حوالے کر دیتے ہیں۔خرچ کرنا بیویوں کا کام ہے۔اسی وجہ سے عموما گھروں کے پل گھر والیوں کے نام آتے ہیں۔مسر علی محمد کے نام بل آوے گا اگر چوہدری علی محمد صاحب کوئی سامان خریدیں۔کوئی خط کوئی پارسل ہو سب مسز کے نام آتے ہیں۔چنانچہ ہمارے ہاں ایسے لطیفے عموماً ہوتے رہتے ہیں حتی کہ حضرت اقدس کے نام بھی اسی طرح سے پل پارسل یا خط آتے ہیں۔ایک دن اس قسم کا خط آیا۔پہلے پہلے تو چوہدری علی محمد صاحب وہ خط چھپاتے چھپاتے لے گئے اور ڈرتے ڈرتے کئی بل بیچ ڈال کر بات کی۔حضرت اقدس ہنسے اور فرمایا کہ یہاں قاعدہ یہی ہے ان کو کیا معلوم کہ ہمارے گھر کے لوگ ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ملک کے رواج کے مطابق مسز ( فلاں) کے نام بھیج دیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ گھر کے بلوں کی ادائیگی عورتوں ہی کے ذمہ ہوتی ہے مردوں کو اس سے کوئی تعلق و واسطہ نہیں ہوتا۔نما ز ظہر وعصر حضور نے جمع کرا کے پڑھائیں۔مغرب کی نماز میں اور عشاء کی نماز میں تشریف نہ لا سکے۔نزلہ کھانسی کی زیادہ تکلیف ہے۔میں ابھی نو بجے کہ بعد ہند کی ڈاک لے کر گیا تھا تو دیکھا کہ حضور لیٹے