سفر یورپ 1924ء — Page 384
۳۸۴ ہوئے تھے۔میں نے حال پوچھا تو فرمایا نزلہ کھانسی ہے۔کھانا شام کا اوپر اپنے کمرے میں منگا کر تناول فرمایا۔آج کی ڈاک میں صرف دو خط ہندوستان کے ملے ہیں جن میں ایک حضرت مفتی صاحب کا تھا۔باقی انشاء اللہ اب پیر کے دن ملیں گے اس طرح کل کا دن انتظار میں کٹے گا۔۱۲ اکتوبر ۱۹۲۴ء : حضور صبح کی نماز میں تشریف نہیں لا سکے طبیعت اللہ کے فضل سے نسبتاً اچھی ہے۔ناشتہ فرمایا اور ضروری سامان حضور نے بھی باندھنا شروع کرا دیا ہے۔کھانے کے میز پر بھی تشریف لائے۔واپسی کے متعلق باتیں ہوتی رہیں۔حضور نے فرمایا کہ اب تو ہمارے دوستوں کو چاہیے کہ یہ دس دن بڑے زور سے کام کریں مگر معلوم ہوتا ہے کہ دوست تھک گئے ہیں حالانکہ کام ابھی بہت محنت چاہتا ہے اور تھکان یا آرام کا خیال بھی نہ آنا چاہیے۔پیرس میں ہوٹل کے انتظام کے لئے مولوی محمد دین صاحب سے پوچھا۔انہوں نے عرض کیا کہ خالد شیلڈ رک کہتا ہے کہ دو تین دن پیشتر میں پیرس چلا جاؤں گا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ان کے جانے سے بہت خرچ ہو گا کیوں نہ خط و کتابت سے فیصلہ کر لیا جاوے۔دو ہوٹلوں کا انتظام کر لیں۔ایک کوئی بڑا ہوٹل ہوا اور معزز جس میں ملاقاتوں کے لئے بڑے لوگ آ سکیں دوسرا معمولی ہو جہاں دوست بھی آسکیں اور کھانا وغیرہ بھی اپنا پک سکے۔آتے ہوئے بھی ہم اس طرح سے اخراجات میں کفایت کرتے چلے آئے ہیں۔فرما یا ۲۹ یا ۳۰ تک فرانس میں ٹھہریں گے۔ایک یا دو تین دن پہلے وینس پہنچنا ضروری ہے تا کہ جہازی سفر کے لئے سامان خوردونوش خریدا جا سکے۔آتی دفعہ کھانے پینے میں بہت دقت ہوئی تھی۔بعض اوقات تو بھو کے رہنے کے علاوہ بھی اخراجات مجبوراً زیادہ ہو گئے تھے لہذا پچھلے تجربہ سے فائدہ اُٹھانا ضروری ہے تا کہ تکلیف سے بھی بچے رہیں اور خرچ بھی زیادہ نہ ہو۔سمندر کی حالت کے متعلق ذکر ہوتے ہوتے فرمایا کہ ہمارے دوستوں میں سے بہت اچھی حالت میں تو بھائی جی اور چوہدری فتح محمد صاحب رہتے تھے۔درمیانہ حالت میں رہنے والے دو درجوں میں تقسیم تھے۔ایک وہ جو اچھی حالت والوں کے قریب قریب تھے ان میں چوہدری علی محمد ہے اور بیمار حالت والوں سے قریب ہمارے ڈاکٹر صاحب اور خود میں تھا۔ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ میں تو حضور سوائے ایک دو دفعہ کے اچھا رہا تھا اور چلتا پھرتا بھی رہا تھا۔فرمایا مگر چہرے کی حالت آپ کو تو نظر نہ آتی تھی اس کو ہم دیکھتے تھے جس سے صحیح حالت کا اندازہ ہوسکتا تھا۔