سفر یورپ 1924ء — Page 382
۳۸۲ امانتیں تھیں ان سے اجازت لے کر اور بعض اور رقوم ادھر اُدھر سے سمیٹ کر بارہ ہزار روپیہ و ہیں کے بنک میں جمع کرا رکھا تھا کہ ضرورت کے وقت تار دے کر منگالوں گا۔اگر وہ بھی نہ ہوتا تو میرے ساتھی بھی کبھی کے بے خرچ ہو بیٹھے ہوتے۔فرمایا جب مالی حالت اس حد تک پہنچی ہو تو پھر میں نہیں کہہ سکتا کہ جو لوگ قادیان میں دفتر والوں کے سامنے فاقہ کشی کرتے ہوں ان کو چھوڑ کر دفتر والے باہر روپیہ بھیجیں گے۔سامنے کی تکلیف تو نظر آتی ہے اسی وجہ سے وہ سخت تر ہوتی ہے۔ڈور سے خواہ کتنا ہی کیوں نہ چھینیں چلائیں اتنا احساس ان کی تکلیف کا نہیں ہو سکتا جتنا کہ خود سامنے تکلیف والے کو دیکھ کر ہوتا ہے۔پس ان حالات میں اپنا نفع و نقصان سوچ لیں۔ہم عمداً تو تکلیف میں رکھنا نہیں چاہتے مگر اگر خدانخواستہ کوئی ایسے حالات پیش آگئے تو پھر اس کا شکوہ ہم پر نہ ہو وغیرہ۔ملک غلام فرید صاحب کی بیوی کے بھائی صاحب یہ پیغام لے کر آئے تھے بذریعہ خط اور ساتھ انہوں نے زبانی بھی بہت کچھ عرض کیا۔یہ تمام باتیں حضرت اقدس نے انہی کو بتا ئیں اور یہ بھی فرمایا کہ میرا اپنا اگر کوئی عزیز یا رشتہ دار بیوی یا بہن اس حالت میں ہوتی تو میں ان کو ضر ور روانہ کر دیتا۔اس موسم سے بہتر موسم پھر ملنا مشکل ہوگا۔اب تو دو بچوں کی تکلیف کا خیال ہے پھر تین بچے ہوں گے (کھانے کے میز پر ) اخلاص کا ذکر ہوا تھا۔فرمایا جماعت میں اخلاص کی تو کمی نہیں ہے مگر جو چیز اس کے پاس ہے نہیں وہ کہاں سے لاوے۔وہی لوگ جو مجھے چلتے وقت کہتے تھے کہ حضور تھوڑا سا روپیہ لے کر چلے جائیں پھر ہم پیچھے سے بھیج دیں گے اب خود میرا روپیہ بھی خرچ کر چکے ہیں حالانکہ اس وقت کہتے تھے کہ حضور بھلا یہ بھی کبھی ہو سکتا ہے کہ ہما را امام ہمارا خلیفہ با ہر ہوا اور ہم خرچ بھیج کر نہ بلوا لیں۔ہم کپڑے بیچ کر بھی بلوا لیں گے مگر اب بے بس ہیں اوروں کا تو کیا کہنا ہے خود میری اپنی زمین موجود ہے۔کام کرنے والے میرے عزیز بھائی ہیں مگر گا ہک نہیں ملتا۔غیروں کے ہاتھ ہم بیچ نہیں سکتے ورنہ وہ لوگ تو ڈیوڑھے دُگنے دینے کو تیار ہیں۔مگر اس طرح قومی مفاد کو نقصان پہنچتا ہے جو ہمیں ہر گز پسند نہیں۔اسی سلسلہ میں اخلاص کے متعلق ریچھ کی مثال بھی بیان کی