سفر یورپ 1924ء — Page 372
۳۷۲ پوچھ سکتے تھے۔زندگی بعد الموت کی تفاصیل ، تشریحات ،ثبوت ، ہستی باری تعالیٰ پر گفتگو، پیشگوئیاں اور ان کے ثبوت ایسی پیشگوئیاں جو پوری ہو چکی ہیں اور پھر ایسی جو ابھی پوری ہونے والی ہیں، جنت و دوزخ اور ان کی تفاصیل پر بحث۔الغرض لوگوں نے اس سوال و جواب میں بہت بڑی دلچسپی لی اور دو اڑھائی گھنٹے یہی سلسلہ جاری رہا۔مضمون تو ایک گھنٹہ میں پڑھا گیا مگر بعد میں ان لوگوں نے سوالات کے کرنے سے اس کو بہت لمبا اور دلچسپ اور مفید بنا لیا تھا۔مولوی صاحب کے متعلق بتایا گیا ہے کہ بغیر کسی قسم کی گھبراہٹ کے حوصلہ اور دلیری سے گفتگو کرتے اور جوابات دیتے رہے اور اس طرح سے کہتے ہیں کہ بڑا کامیاب لیکچر تھا۔چنانچہ ان کی دلچسپی کا اس سے پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے پھر درخواست کی کہ ہمیں بدھ کے دن ۲۲ اکتوبر کو پھر ایک لیکچر سنایا جاوے۔لیکچرار اور سامعین رات کو ۱۲ بجے واپس مکان پر پہنچے۔اسی طرح کل کا نفرنس کے لیکچر ہال میں سامعین بالکل تھوڑے تھے۔مضمون نیچر اور مذہب پر تھا۔منتظمین کا نفرنس نے اس کو دلچسپ بنانے کے لئے کوشش کی کہ کسی طرح سے سوال وجواب کا سلسلہ جاری ہو جائے مگر کامیابی نہ ہوئی۔اتنے میں ہمارے دوست چلے گئے۔خان صاحب نے کہہ کہا کر مولوی محمد دین صاحب کو کھڑا کر دیا۔چنانچہ وہ مکالمہ بھی بہت پر لطف ہو گیا اور لوگوں کی دلچسپی کا موجب ہو کر جلسہ کی رونق کا باعث بنا۔حضرت اقدس کے ساتھ میاں عزیز الدین صاحب کل بعض دکانات پر گئے ہوئے تھے۔اس سے پہلے مولوی مصباح الدین صاحب اور ملک نواب دین صاحب بھی اس خدمت میں حصہ لیتے رہے ہے ہیں بلکہ ایک دن تو خاص مولوی مصباح الدین صاحب نے حضرت اقدس کی ہمر کابی کا شرف حاصل کیا تھا۔بھائی عزیز الدین بتاتے ہیں کہ کل ایک بڑی دکان پر گئے ادھر ادھر کا سامان دیکھا بھالا۔دکان کا مالک انگریز میاں عزیز الدین صاحب سے الگ ہو کر کہنے لگا کہ یہ شخص اپنے چہرے سے کوئی عظیم الشان شخصیت کا انسان معلوم ہوتا ہے۔میاں عزیز الدین صاحب نے کہا کہ تم ٹھیک کہتے ہو یہ انسان واقع میں ایسا ہی ہے جیسا تم نے قیاس کیا مگر تفصیل اس کو نہ بتائی۔دراصل بعض لوگوں میں قیافہ کی قوت اور مردم شناسی کا ملکہ خاص طور پر ودیعت کیا گیا ہے