سفر یورپ 1924ء — Page 358
۳۵۸ بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم ازلنڈن : مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۲۴ء (ج) گذشتہ سے پیوستہ السلام عليكم ورحمة الله وبركاته جب اہل مکہ کو اس سے بھی نا امیدی ہوئی تو انہوں نے ایک رئیس کو اپنے میں سے چنا اور اس کی معرفت آپ کو کہلا بھیجا کہ آپ یہ بتائیں کہ ملک میں یہ فساد آپ نے کیوں مچا دیا ہے۔اگر آپ کی یہ غرض ہے کہ آپ کو عزت مل جائے تو ہم سب شہر میں سے آپ کو معزز قرار دے دیتے ہیں۔اگر مال کی خواہش ہے تو ہم سب شہر کے لوگ اپنے مالوں کا ایک ایک حصہ الگ کر کے آپ کو دے دیتے ہیں جس سے آپ سارے شہر سے زیادہ امیر ہو جائیں گے۔اگر حکومت کی خواہش ہے تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنانے کے لئے تیار ہیں۔اگر شادی کی خواہش ہے تو جس عورت سے آپ چاہیں آپ کی شادی کرا دی جائے گی مگر آپ ایک خدا کی پرستش کی تعلیم نہ دیں۔جس وقت وفد نے یہ پیغام آپ کو آ کر دیا آپ نے فرمایا کہ دیکھو اگر سورج کو میرے ایک طرف اور چاند کو میرے دوسری طرف لا کر کھڑا کر دو یعنی یہ دنیا کا مال تو کیا ہے اگر چاند اور سورج کو بھی میرے قبضہ میں دے دو تب بھی میں اس تعلیم کو نہ چھوڑوں گا۔اُس وقت تک گل اسی آدمی رسول کریم ﷺ پر ایمان لائے تھے مگر جب مکہ کے ظلموں کی خبر باہر پہنچی تو لوگوں نے تحقیقات کے لئے مکہ آنا شروع کیا۔اس پر اہل مکہ بہت گھبر ائے اور انہوں نے شہر کی سڑکوں پر پہرے مقرر کر دیئے کہ کوئی رسول کریم سے مل نہ سکے اور ارادہ کیا کہ آپ کو قتل کر دیں۔اس پر آپ کے چچا اور دیگر رشتہ دار آپ سمیت ایک وادی میں چلے گئے تا کہ آپ کی حفاظت کریں۔پس جب اس طرح بھی کام چلتا نہ دیکھا تو سب اہل مکہ نے معاہدہ کر لیا کہ رسول کریم اور آپ کے خاندان اور تمام مسلمانوں کا مقاطعہ کیا جائے اور کوئی شخص ان کے پاس کوئی