سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 339 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 339

۳۳۹ پھیلانے کے سمیٹ کر چھاتی کی طرف لے جاتے ہوئے سلام کیا اور چلتی گئیں۔خدا نے آخر عقل دی ہے۔علم دیا ہے۔ان میں بھی فہم اور فراست ہے اور وہ حق و باطل میں تمیز کرنے کی قابلیت رکھتی ہیں۔جب ان کو عقل اور نقل سے بات سمجھا دی گئی انہوں نے اس کو قبول کیا اور دل سے مانا۔وہ لوگ جو یہاں ان امور میں مشکلات اور مجبوریوں کے نام کی آڑ لیتے ہوئے ان باتوں میں خود گر جاتے ہیں ان کا برا نمونہ بھی اگر یہاں نہ ہو تو جلد تر یہ قوم اپنی غلط اور مضر اخلاق عادات کو ترک کرنے کے لئے تیار اور اس کی اہل ہے۔اس ٹی پارٹی کے مفصل حالات تو میں کیا عرض کرسکتا ہوں خلاصہ کے طور پر جو مجھے ادھر اُدھر سے چھینا جھپٹی کر کے ملے ہیں عرض کرتا ہوں۔توجہ سے سنئے گا۔اس ہوٹل کا نام ریٹرز ہے اور بہت بڑا معزز اور چنا ہوا ہوٹل شمار ہوتا ہے۔حضور وقت پر تشریف لے گئے۔خان صاحب کو پہلے حضور نے بھیج دیا ہوا تھا۔ہوٹل میں مسٹر لافٹس ہیز MI) (Lafis Hayes مولوی نیر صاحب اور لیڈی سر لافٹس ہیز استقبال کرتے تھے اور ہر مہمان کو حضرت اقدس سے انٹروڈیوس کراتے تھے۔ساڑھے پانچ بجے تک مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے بعد حضور مع رفقاء چائے کے کمرے میں تشریف لے گئے۔۷۰ کے قریب اصحاب چائے پر موجود تھے جن میں کچھ عورتیں اور باقی مرد تھے۔۵ شلنگ فی کس خرچ ہوا اور کچھ انعامات بھی دیئے گئے نوکروں کو۔چائے کے کمرے میں حضور کے خدام متفرق ہو کر اور مہمانوں میں مل مل کر بیٹھے تاکہ ان کی خاطر مدارات کر سکیں اور ان سے سلسلہ کلام جاری رکھ کر کچھ تبلیغ بھی کر سکیں۔چنانچہ چائے پر تبلیغ اور کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں اور چائے کے بعد پریذیڈنٹ کا نفرنس مذہبی نے جن کا نام سر ڈینی سن راس ہے حضرت اقدس سے کچھ سنانے کی درخواست کی۔حضرت اقدس نے چلتے چلتے ایک چھوٹا سا مضمون لکھ کر چو ہدری صاحب کو دیا تھا کہ اس کا ترجمہ کر لیں مگر چونکہ اس وقت ابھی پہلے مضمون کا ترجمہ ہو رہا تھا اور کسی کو بھی فرصت نہ تھی چوہدری صاحب نے عرض کیا کہ حضور میں اسی وقت ترجمہ کرلوں گا جب بولنا ہوگا۔چنانچہ حضرت اقدس نے چوہدری صاحب کو اشارہ فرمایا کہ کچھ کہہ دیں مگر پریذیڈنٹ صاحب نے عرض کیا کہ ہم لوگ تو خود حضور کی زبان سے سننے کو آئے ہیں اور یہی ہماری