سفر یورپ 1924ء — Page 24
۲۴ جہاز اور ہمارا حال : جہاز میں پانچ ٹکٹ سینڈ کلاس کے ، سات ٹکٹ ڈیک کے ہیں اور ایک ٹکٹ سید نا حضرت خلیفہ امسیح کا فرسٹ کلاس کا ہے۔سیکنڈ کلاس پسنجرز کے واسطے کیبن ہیں مگر ہمارے دوستوں میں سے ایک بھی کبھی رات کے لئے تو کیا ایک گھنٹہ کے واسطے بھی ان کیبنوں میں نہیں رہا۔ہمارے حافظ صاحب ایک ہی مرتبہ اپنے درجہ کے جائے ضرور میں رفع حاجت کی غرض سے گئے تھے تو ان کو قے ہو گئی۔چوہدری محمد شریف صاحب کا قول ہے کہ جلتی آگ اور طوفانی سمندر سے وہ خوف نہیں آتا جو نیچے کے حصہ کے کیبن میں جانے سے آتا ہے۔ان سب بزرگوں نے یہ پانچ دن کی سختی اور ہوا اور طوفان کی بوچھاڑ سب کچھ بالائی ڈرائینگ روم میں بسر کیا۔ڈیک کے مسافروں کا حال سیکنڈ کلاس پسنجرز کے حال سے اندازہ ہوسکتا ہے جن کے واسطے نہ کوئی کمرہ نہ مکان نہ سامان رکھنے کی جگہ نہ سونے کا مقام - جو حصہ ان کے واسطے رکھا گیا ہے اس کی دو قسمیں ہیں، ایک جہاز کے اگلے حصہ میں دوسرا سیکنڈ کلاس اور فرسٹ کلاس کے درمیان نیچے کے حصہ میں۔اگلا حصہ تو بالکل نا قابل استعمال ثابت ہوا ہے اور شاید ایک گھنٹہ کے لئے بھی مسافر وہاں آرام نہیں پاسکے۔چند ہندوستانی گجراتی۔عدن کے تاجر مسافر وہاں مقیم تھے مگر ان کے سامان - پارچات-خوراک سب نذر آب ہو گئے اور وہ بے چارے دریا کے کنارہ کے طوفان زدہ بدنصیب گاؤں کے باشندوں کی طرح بے خانماں ہو رہے ہیں۔ان کو دیکھ دیکھ کر رحم آتا ہے اور جہاز والوں کے ظلم کا ثبوت ملتا ہے کہ کرایہ لے کر کوئی صورت آرام کی پیدا نہیں کی۔دوسرے حصہ کا ایک حصہ واقف کار یہودیوں نے روکا ہوا ہے اور بڑے لمبے چوڑے گریلے بچھا کر لیٹے ہوئے ہیں۔صرف ایک آدمی کے سونے کی جگہ بمشکل اور تنگ و تاریک کنارہ ہمارے حصہ میں آیا جہاں ہمارا سامان بھی نہیں ٹک سکا مگر مصلحت الہی اور اس کے فضلوں نے ہمیں سب سے زیادہ آرام میں رکھا اور وہ یہودی بھی طوفانی حالت میں بھاگے بھاگے پھرا کرتے ہیں۔امن اگر کچھ ڈیک مسافروں کو ملا تو یہ صرف ہمارے حصہ میں آیا جس کو لوگوں نے ردی سمجھ کر چھوڑ دیا وہی کام کی جگہ ثابت ہوئی اور محفوظ مقام بن گیا۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح کی موجودگی ہمارے واسطے بہت بڑی رحمت بنی ہوئی ہے۔حضور کے طفیل ہم لوگ گویا سب کے سب فرسٹ کلاس پسنجر ہیں اور جو آرام ہمیں حضور کی ہمرکابی کی