سفر یورپ 1924ء — Page 334
۳۳۴ لوگوں سے زیادہ تعلق پیدا کرے۔وہ ان سے بے تکلفی پیدا کرے۔وہ اپنی افسریت کے خیال کو ترک کر کے اصرار اور سمجھانے سے کام لے۔وہ ان کی دعوتوں ، ان کی مجلسوں اور ان کی خوشیوں اور غموں میں شامل ہو اور اس پرانے ریزرو کو جس کا وہ عادی رہا ہے ترک کر دے تا کہ ہندوستانی اسے صرف اپنا خیر خواہ ہی نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنے میں سے ہی ایک خیال کریں۔اسی طرح چاہیے کہ انگلستان کے لیکچرار اور اخبار اپنی تقریروں اور تحریروں میں ہند وستانیوں کے احساسات کا خیال رکھیں بعض معمولی باتیں بڑے نتائج پیدا کر دیتی ہیں۔میرے نزدیک اس قدر ایجی ٹیٹر کو کسی اور چیز نے فائدہ نہیں دیا جس قدر کہ بعض انگریز لیکچراروں کی تقریروں اور بعض نامہ نگاروں کی تحریروں نے۔ایک ہندوستانی جس وقت یہ پڑھتا ہے کہ اس کے ہم وطنوں کو برا کہا جاتا ہے یا ان کی نسبت یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ملک کی رائے ان کے ساتھ نہیں ہے تو وہ طبعا ان کی طرف بھی جاتا ہے اور اگر وہ پہلے ان کا مخالف تھا تو اب ہمدرد ہو جاتا ہے۔پس میں آپ لوگوں سے یہ درخواست کروں گا کہ ہندوستانی طبیعت کا زیادہ مطالعہ کریں اور اپنی تقریروں اور تحریروں اور سلوک میں ہندوستانیوں کے احساسات کا خیال رکھیں۔مجھے تعجب آتا ہے جب کہ انگریزوں سے میں یہ سنتا ہوں کہ ہندوستانی انگریزوں کی طبیعت کا مطالعہ نہیں کرتے۔میں جانتا ہوں کہ یہ درست ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ انگریز ہندوستانیوں کی طبیعت کا بہت ہی کم مطالعہ کرتے ہیں جس قوم کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ہو اس کا فرض ہے کہ وہ پہلے قدم اُٹھائے۔پس چاہیے کہ برطانیہ کے لوگ ہندوستانیوں کی طبیعت کا گہرا مطالعہ کریں پھر ان سے ہمدردانہ معاملہ کریں۔اس سے لازماً ہندوستانیوں کی بدظنیاں دور ہو جائیں گی اور طبائع اس امر کے لئے تیار ہو جائیں گی کہ ٹھنڈے دل سے ان اختلافات کے دور کرنے کیلئے با ہمی بیٹھ کر غور کر سکیں جن کی موجودگی دونوں قوموں کو تکلیف دے رہی ہے اگر تھوڑی سی احساسات کی قربانی ، اگر تھوڑا سا جذبات کو دبانا ہندوستان کے ہیرے کو جو برٹش تاج کی زینت رہا ہے مگر اس وقت اپنی جگہ سے ہل رہا ہے پھر اپنی جگہ پر مضبوطی سے قائم کر دے تو کیا آپ لوگ اس کے لئے تیار نہیں ہوں گے؟ مجھے یقین رکھنا چاہیے کہ ضرور ہوں گے۔فقط ۲۶ ستمبر ۱۹۲۴ء- عصر