سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 331 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 331

ہوتے اس لئے وہ ممبروں کی دلجوئی اور ان کو اپنے ساتھ رکھنے کی پوری کوشش نہیں کرتے اور اس کا بداثر گورنمنٹ کی نیک نامی پر پڑتا ہے۔پانچواں زبر دست یہ فائدہ تھا کہ اس سے غیر ذمہ دارانہ تنقید کا دروازہ آسانی سے بند کیا جاسکتا تھا۔اس وقت اور انہی معاملات میں مؤثر تنقید کا موقع کونسلوں کو دیا جاتا جب اور جن معاملات کی نسبت خیال کیا جا تا کہ ان کو ہندوستانیوں کے سپرد کر دینے میں کوئی حرج نہیں آئندہ سیلف گورنمنٹ کی ترقی کے مدارج اختیارات کی زیادتی میں نہ ہوتے بلکہ صیغوں کی زیادتی میں ہوتے۔وقفہ وقفہ پر جو صیغے محفوظ سمجھے جاتے وہ ہندوستانیوں کو دے دیئے جاتے۔اس طرح گورنمنٹ اور رعایا کے تعلقات بھی درست رہتے اور فرقوں کو آپس میں نیک سلوک کرنے کا موقع ملتا۔مگر چونکہ ایک اصول پر ریفارم سکیم کی بنیاد پڑ چکی ہے اور اس سے اس کو ہٹانا شاید اصول سیاست کے خلاف سمجھا جائے اس لئے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے میرے نزدیک مندرجہ ذیل امور قابل غور ہیں جن کے علاج سے موجودہ شورش میں کچھ کمی ہو سکتی ہے۔پیشتر اس کے کہ میں علاج بتاؤں میں موجودہ شورش کی نسبت آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں۔اس وقت ہندوستان میں حد اعتدال سے باہر دو پارٹیاں ہیں اور یہ دونوں پارٹیاں عدم تعاون کے عنوان کے نیچے کام کرتی ہیں۔ان میں سے ایک مسٹر گاندھی کی پارٹی ہے جس کا یہ خیال ہے کہ گورنمنٹ سے کلی طور پر عدم تعاون کرنا چاہیے۔نہ کونسلوں میں جانا چاہیے ، نہ اس کے اسکولوں میں داخل ہونا چاہیے ، نہ اس کی عدالتوں میں جانا چاہیے۔دوسری پارٹی کے لیڈر مسٹر داس اور مسٹر نہرو ہیں اول الذکر بنگال کے اور ثانی الذکر یوپی کے مشہور وکیل ہیں۔ان کی پارٹی کا یہ خیال ہے کہ ہمارے نان کو آپریٹ کرنے سے گورنمنٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا جب کہ دوسرے لوگ ایسے موجود ہیں جو گورنمنٹ سے کو آپریٹ کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس لئے ان کے نزدیک ایسی کو آپریشن جس کا آخری نتیجہ مؤثر نان کو آپریشن ہو جائز ہے اور اس اصل کے ماتحت یہ لوگ کونسلوں میں داخل ہوئے ہیں اور ان کی ایک غرض تو اس سے یہ ہے کہ انگلستان کے لوگوں پر ثابت کر دیں کہ یہ امر غلط ہے کہ ملک کی رائے ان کے خلاف ہے۔چنانچہ کثرت سے ان لوگوں کے نامزد کردہ ممبر کا میاب ہوئے ہیں