سفر یورپ 1924ء — Page 330
۳۳۰ لیکن ان کا اثر گورنمنٹ پر بھی پڑتا ہو ان میں گورنمنٹ ممبروں کو آزاد چھوڑ دیں کہ وہ اپنی ذاتی رائے کے مطابق عمل کریں اور جس امر میں گورنمنٹ یہ سمجھے کہ وہ اپنے نقطہ نگاہ کو نہیں بدل سکتی ان میں کثرت رائے سے جو اس کی ہوگی فیصلہ کرے۔اس امر کونہیں بھولنا چاہیے کہ انسانی فطرت ہر وقت زندہ رہتی ہے اور عقل اور دلیل اس پر پورے طور سے غالب نہیں آ سکتے۔ملک پر اس امر کا اثر بالکل اور پڑتا ہے کہ اس کی منتخب کردہ جماعت ایک فیصلہ کرے اور اس کو ر ڈ کر دیا جائے اور اس کا اثر اور پڑتا ہے کہ ایک کونسل جس میں خواہ گورنمنٹ کے ممبر ہی ہوں کثرت رائے سے ایک مسودہ کو رڈ کر دے یا پاس کر دے۔دوسر انقص ریفارم سکیم میں یہ رہ گیا ہے کہ اس میں کامل اختیار ہند وستانیوں کو کسی صیغہ میں بھی نہیں ملے اور جرح کرنے کا اختیار ہر صیغہ میں مل گیا ہے۔بغیر ذمہ واری کے تنقید کرنا بالکل آسان ہوتا ہے۔ذمہ داری انسان کو بہت محتاط بنادیتی ہے۔نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ہندوستانیوں کے لئے تسلی کی صورت کوئی پیدا نہیں ہوئی اور رنج کی صورتوں کے نکلنے کے لئے دروازہ کھول دیا گیا ہے۔میرا مشورہ یہ تھا کہ دو صیغے مثلاً تعلیم اور جنگلات یا تعلیم اور کوئی اور صیغہ کلی طور پر ہندوستانیوں کو سپرد کر دیا جائے۔صوبوں میں بھی اور مرکزی حکومت میں بھی۔ان صیغوں میں ہندوستانی وزراء، گورنروں اور گورنر جنرل سے مل کر کام کریں اور وزراء پورے طور پر کونسلوں کے ماتحت ہوں۔اگر کونسلیں وزراء کے کام پر خوش نہ ہوں وہ کام سے علیحدہ ہو جائیں جس طرح کہ مغربی ممالک میں ہوتا ہے۔اس کے کئی فائدے تھے۔اول تو یہ کہ ہندوستانیوں کو بغیر حکومت کو کوئی معتد بہ نقصان پہنچانے کے حکومت کا تجربہ ہو جاتا۔دوسرے ان کو یہ تسلی ہوتی کہ بعض صیغوں میں ان کو اپنی لیاقت اور حسن انتظام دکھانے کا موقع مل گیا ہے۔تیسرے ملک کو بھی ممبران کونسل کے کام دیکھنے کا موقع ملتا اور صحیح اصول پر سیاسی پارٹیوں کی نشو و نما کا راستہ کھل جاتا۔اب چونکہ ذمہ داری کوئی نہیں صرف تنقید ان کا کام ہے اس لئے سب ملک ان کے کام کی خوبی کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے ہندوستانی ہونے کے سبب سے ان کی تائید کرنے لگتا ہے۔چوتھے وزراء چونکہ کونسلوں کے سامنے ذمہ دار ہوتے۔ان کو اپنے ہم خیال بنانے اور ان کو ساتھ ملائے رکھنے کا خیال رہتا اور مختلف خیالات میں توازن قائم رہتا۔اب یہ ہوتا ہے کہ وزراء گوملکی ہوتے ہیں مگر چونکہ کونسل کے سامنے جوابدہ نہیں