سفر یورپ 1924ء — Page 329
۳۲۹ اختیار دے کر ویٹو سے بدنتائج کو روکنے کی کوشش کرنا گویا خو د فساد پیدا کرنا ہے۔غرض ویٹو کا طریق اسی وقت بغیر فساد پیدا کرنے کے کام دے سکتا ہے جب کہ واضعان قوانین اس امر کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ جن لوگوں کے خلاف اس کو استعمال کرنا ہے وہ فیصلہ کرنے کی پوری قابلیت رکھتے ہیں اور ان کے فیصلہ کے خلاف اس کو استعمال کرنے کا موقع یا تو بالکل نہیں ملے گا یا شاذ و نادر کبھی ملے گا۔اسی طرح ایجی ٹیشن کا دروازہ بھی اسی وقت کھولا جاسکتا ہے جب کہ وہ حکام جن کے خلاف اس کو استعمال کیا جائے رائے عامہ کے ماتحت بدلے جا سکتے ہوں۔اس وقت بے شک ایجی ٹیشن ایک عمدہ ذریعہ ہے عام رائے کے نفاذ کا مگر جب کہ حکام عام رائے کے ماتحت بدلے نہ جا سکتے ہوں تو پھر ایجی ٹیشن سوائے ریوولیوشن (Revolution) کے اور کیا نتیجہ پیدا کرسکتا ہے۔جب حکام عام رائے کے ماتحت ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ عام رائے صحیح ہے یا غلط بلکہ جو عام رائے ہو وہ اس کی اتباع کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں نہیں تو کام سے علیحدہ ہو کر ان لوگوں کو موقع دیتے ہیں جو عام رائے سے متفق ہیں مگر جو حکام عام رائے کے ماتحت نہیں وہ اگر دیانت دار ہوں تو تمام امور کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ کیا وہ بات ملک کے لئے مفید بھی ہے یا نہیں اگر وہ کسی بات کو ملک کے لئے مضر پاتے ہیں تو اس کو رد کر دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کے خلاف اگر ایجی ٹیشن ہو اور حکام اور عام رائے میں اتفاق رائے نہ ہو سکے تو اس کا لازمی نتیجہ ریوولیوشن ہوگا۔میرے نزدیک ریفارم سکیم بناتے وقت اس امر کو اس کے واضعین نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور انگلستان کی موجودہ حالت پر قیاس کر کے ایجی ٹیشن کو ریوولیوشن کا ذریعہ سمجھ لیا ہے حالانکہ ہندوستان میں ملک کی عام رائے کو گورنمنٹ کے مقرر کرنے یا الگ کرنے میں کوئی دخل نہیں ہے۔اس وجہ سے وہاں ایسا طریق حکومت جو لازماً ایجی ٹیشن پیدا کرتا ہو یقیناً سمبش یا ریوولیوشن (Revolution) ان دونوں سے ایک نتیجہ پیدا کرے گا۔میری رائے یہ تھی اور اب بھی ہے کہ کونسلوں میں کثرت رائے گورنمنٹ ممبروں کی ہونی چاہیے تھی لیکن گورنر جنرل اور گورنروں کو ہدایت ہونی چاہیے تھی کہ جب ایسے معاملات پیش ہوں جن کی نسبت گورنمنٹ سمجھتی ہو کہ کوئی فیصلہ بھی کونسل کرے وہ اس پر عمل کرسکیں گے۔ان میں گورنمنٹ ممبر ووٹ نہ دیں اور پبلک رائے پر اس معاملہ کو چھوڑ دیں جو معاملات زیادہ اہم نہ ہوں