سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 327 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 327

۳۲۷ پولیٹیکس کا ایک سکول بنا دیا ہے۔یہ بالکل درست ہے کہ عوام الناس اس امر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ سیلف گورنمنٹ کی حقیقت کیا ہے مگر اس امر سے اس حقیقت میں کوئی فرق نہیں آتا کہ ملک کا بیشتر حصہ اس تحریک سے متفق ہے۔وہ سُوراج کو جانتا ہے یا نہیں جانتا مگر وہ اس کو حاصل ضرور کرنا چاہتا ہے۔ان حالات کو جب دیکھا جائے تو مجبوراً ما ننا پڑتا ہے کہ ہندوستان کی اس خواہش کا کچھ علاج ضرور ہونا چاہیے ورنہ قیام امن مشکل ہو گا مگر میں جو حالات پہلے حصہ مضمون میں بتا آیا ہوں وہ اس کے مخالف ہیں کہ ہندوستان کو موجودہ وقت میں سوراج ملے۔جو قو میں اس وقت ایک دوسرے سے انصاف نہیں کر سکتیں اور ایک معمولی سے اشتعال پر ایک دوسرے کا گلا کاٹنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں وہ اس وقت کیا کریں گی جب انگریز واپس آجائیں اور ان کو کامل اختیارات حاصل ہو جائیں۔میرے نزدیک ہندو مسلمان بھی اپنے دلوں میں اس امر پر خوش ہے کہ ہم طاقتور ہیں۔انگریزوں کے باہر نکلتے ہی ہم حکومت پر قابض ہو جائیں گے۔مسلمانوں کو اپنی طاقت اور ہمسایہ مسلمان حکومتوں پر گھمنڈ ہے۔ہندوؤں کو اپنی تعداد اور بعض ہمسایہ بدھ حکومتوں پر گھمنڈ ہے۔نہایت دبی آوازوں میں ہم گور کھا اور سکھ سپاہی اور پٹھان سپاہی کی طاقت اور قابلیت کے مواز نے سنتے ہیں اور میرے نزدیک ہندو قوم اب ایسی منظم ہو چکی ہے کہ مسلمانوں کے دعوے ایک ورثہ میں ملے ہوئے خیال سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتے۔پس میرے نزدیک موجودہ حالات میں سب سے بڑی تباہی ہندوستان کے لئے یہی ہو سکتی ہے کہ انگریز اپنا قدم وہاں سے ہٹا لیں۔پہلے مسلمان تباہ ہوں گے اور پھر سب ملک۔سیلف گورنمنٹ اچھی چیز ہے مگر وہ سیلف گورنمنٹ جوسیلف ڈسٹرکشن کی طرف لے جاوے ہر گز قابل پسند نہیں۔مگر ہمارا یہ فیصلہ کہ اس وقت کے سوشل حالات ہندوستان کو سیلف گورنمنٹ دلانے کی تائید نہیں کرتے کافی نہیں ہو سکتا کیونکہ خواہش پیدا ہو چکی ہے اور عام بھی ہو چکی ہے اور اگر اس خواہش کو کسی طرح ٹھنڈا نہ کیا گیا تو اس سے مایوسی پیدا ہوگی اور اس کے نتیجہ میں عدم مبالات۔پس مایوسی کا نتیجہ یا ہلاکت نفس ہوتی ہے یا ہلاکت گیر۔پس سیلف گورنمنٹ دی جائے یا نہ دی جائے دونوں صورتوں میں ہلاکت ہندوستان کا منہ تک رہی ہے اور برٹش ایمپائر کے بہی خواہوں کا فرض ہے کہ وہ اس کا علاج سوچیں کیونکہ ہندوستان کی ہلاکت میں ایمپائر کی ہلاکت ہے اور برٹش