سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 293 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 293

۲۹۳ یہ پروٹسٹ ایک اصول کے ماتحت ہے نہ کہ محض عداوت یا نا راضگی کی وجہ سے۔پریذیڈنٹ نے حضرت اقدس کی تقریرہ پر ریمارکس کرتے ہوئے پہلا ریزولیوشن بھی پیش کر دیا۔( ریزولیوشنز کی ایک کاپی ساتھ الگ بھیجتا ہوں ) ہاں اور عرض کرنا رہ گیا کہ مولوی نعمت اللہ خان صاحب کے ثبات اور استقلال کی بھی بہت تعریف کی کہ کس طرح اس شخص نے ایمان اور صداقت کے لئے استقلال دکھایا اور حق کے لئے جان تک قربان کر دی۔ساتھ ہی اس نے مولوی نعمت اللہ خان کے کام کو جاری رکھنے کی بھی احمد یہ جماعت کو تاکید کی اور انگریز قوم سے خواہش کی کہ اگر موقع ہو تو ان لوگوں کی امدا دضرور کریں اور بتایا کہ انگریزی قوم جو آزادی اور حق کے لئے جان دینا اپنا پیشہ سمجھتے ہیں اس کام میں بھی انسانی ہمدردی اور امداد کرنا اپنا فرض سمجھیں گے۔ریز ولیوشن نمبر ایک پیش ہوا۔پادری جیفرے صاحب نے اس کی پر زور الفاظ میں تائید کی۔اس کے بعد ایک کرنل صاحب نے تائید کی۔ووٹ لئے گئے اور ریزولیوشن پاس ہو گیا۔پریذیڈنٹ جب ریزولیشن کی روئیداد لکھنے لگا تو خواجہ صاحب کا نونہال نذیر احمد اُٹھا اور کوشش کی کہ جلسہ کو ڈسٹرب کرے مگر خدا تعالیٰ نے ناکام و نامراد رکھا اور ذلت کے ساتھ اس کو ندامت کے گڑھے میں گرنا پڑا۔تفصیل یہ ہے کہ نذیر احمد اُٹھا اور کہا کہ بعض لوگ اس کے خلاف بھی ہیں۔پریذیڈنٹ نے کہا کہ اب ریزولیوشن پاس ہو چکا ہے آپ پہلے کہاں تھے جب ہم نے مخالفت کرنے والوں کو بولنے کا موقع دیا تھا۔نذیر احمد نے کہا کہ آپ نے کوئی موقع نہیں دیا۔پریذیڈنٹ نے کہا کہ موقع دیا تھا اچھا حاضرین سے پوچھ لیا جاوے۔چنانچہ قریباً سب حاضرین نے ہاتھ کھڑے کر کے پریذیڈنٹ کی تائید کی اور نذیر کو ذلیل ہو کر بیٹھنا پڑا۔پھر بے روک ٹوک ریزولیوشنز یکے بعد دیگرے پاس ہو گئے اور سب ہی بالا تفاق پاس ہو گئے۔خدا تعالیٰ نے شامت کے ماروں کو یہ بھی توفیق نہ دی کہ امداد نہیں کر سکتے تو مخالفت ہی نہ کریں۔خیر مدد کرتے تو خدا جانے کہاں کہاں سناتے اور کتنا احسان جتاتے۔مخالفت کر کے بھی دل کی بھڑاس نکال لی ہے اور یہ افسوس بھی دل میں باقی نہ رہا۔آخر میں نیر صاحب نے پریذیڈنٹ کا شکریہ ادا کیا اور جلسہ برخاست ہو گیا۔جلسہ میں